سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 140
140 تسکین کے لئے کتب کی خرید پر کچھ نہ کچھ رقم ضرور خرچ کرتے تھے اور اس طرح آپ نے منتخب کتب کی ایک اچھی لائبریری بنائی ہوئی تھی۔آپ کے ذاتی کتب خانہ کی ہزاروں کتب جماعت کی مرکزی لائبریری کی افادیت میں اضافہ کا باعث بنی ہوئی ہیں جن میں سے سینکڑوں کتب پر آپ کے دست مبارک کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں جو اس بات کے غماز ہیں کہ ان تمام کتابوں کا حضور مطالعہ فرما چکے تھے۔آپ کی لائبریری میں صرف مذہبی علوم کی کتب ہی نہیں تھیں بلکہ تمام علوم کی بنیادی کتابیں موجود ہیں یہاں تک کہ مرغ بانی کے متعلق تین جلدوں پر مشتمل ایک کتاب بھی موجود ہے جس کا ذکر حضور کی بعض تقاریر میں بھی آتا ہے۔خوشبو اور عطر سے آپ کو خاص لگاؤ اور اُنس تھا اس موضوع پر بھی آپ نے بہت سی کتب کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔تاریخ آپ کا خاص مضمون تھا اور بعض تاریخی واقعات پر آپ کے مفصل خطاب ظاہر کرتے ہیں کہ آپ ہر کتاب کو غور سے پڑھ کر صحیح نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال تھے اسی طرح بعض چھوٹی چھوٹی اور بظاہر معمولی باتوں سے اپنے خدا داد علم وفراست کی وجہ سے بڑے مفید نتائج اخذ کر کے ان سے خود بھی فائدہ اٹھاتے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتے تھے۔حضور کے خطبات و تقاریر اور کتب و تصانیف کے علاوہ مجالس عرفان بھی حضور کی اس خداداد قابلیت کی شاہد ہیں۔ان مجالس میں سے صرف دو جواب بطور نمونہ درج ذیل ہیں :- ایک دوست نے عرض کیا کہ حضور کو تصوف کی کونسی کتاب پسند ہے؟ حضور نے فرمایا مجھے تو قرآن پسند ہے۔اگر اس سے آپ کی تسلی نہیں ہوتی تو میں کسی اور کتاب کا نام بھی بتا دیتا ہوں۔بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوگ تصوف کی اور کتابوں کی طرف تو چلے جاتے ہیں لیکن قرآن کی طرف نہیں آتے۔آپ اگر تصوف کی ہی کوئی کتاب پڑھنی چاہیں تو سید عبدالقادر جیلانی کی کتاب فتوح الغیب بڑی صاف کتاب ہے اور ہر قسم کی لغویات اور اصطلاحات سے پاک لیکن فتوح الغیب ایسی کتاب ہے جس میں سید عبدالقادر جیلانی نے کوئی ایسی اصطلاحیں استعمال نہیں کیں جو آجکل بگڑی ہوئی ہوں۔اس میں