سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 142
142 کتاب میں شامل کر دی ہیں یہ زوائد عبد اللہ کہلاتی ہیں۔(۴) وہ روایات جو عبد اللہ نے امام احمد سے نہیں سنیں لیکن خود ان کے سامنے پڑھی ہیں۔(۵) وہ روایات جو نہ انہوں نے امام احمد سے سنیں اور نہ ان کے سامنے پڑھیں لیکن امام احمد کے ہاتھ کی لکھی ہوئی آپ کی کتاب میں دیکھیں اور ان کو کتاب میں شامل کر دیا۔(1) وہ روایات جو عبد اللہ نے نہیں لکھیں بلکہ حافظ ابو بکر العظیمی نے جو امام احمد اور عبد اللہ بن امام احمد کے شاگرد تھے کتاب میں زائد کر دیں اور وہ نہ عبداللہ نے امام احمد سے بیان کی ہیں اور نہ امام احمد سے براہ راست حافظ ابو بکر نے سنی ہیں اور یہ روایات سب سے کم ہیں۔میں سمجھتا ہوں حضرت خلیفہ اول کا منشاء یہی تھا کہ تیسری اور چھٹی قسم کی روایات کو مسند سے الگ کر دیا جائے یعنی وہ روایات جو عبداللہ نے امام احمد سے نہیں سنیں اور وہ روایات جو حافظ ابوبکر نے عبداللہ کے توسط سے یا براہ راست امام احمد سے نہیں سنیں کیونکہ یہ روایات مسند احمد بن حنبل کا حصہ کہلا ہی نہیں سکتیں۔(الفضل ۲۰۔اپریل ۱۹۴۴ صفحه ۱ ) یادر ہے کہ مسند احمد بن حنبل حدیث کی ضخیم ترین کتاب ہے۔حضور کا اس کے متعلق یہ تبصرہ بتاتا ہے کہ آپ علم حدیث اور علم اصول حدیث کا وسیع مطالعہ کر چکے تھے۔یہ امر بھی خالی از دلچسپی نہیں ہے کہ حضور کی ذمہ داریاں اتنی زیادہ تھیں کہ آپ دن رات کا اکثر حصہ ان کی وجہ سے مصروف رہتے تھے اس کے باوجود آپ اتنا زیادہ علمی کام اور مطالعہ کس وقت کرتے تھے؟ جامعہ ملیہ اسلامیہ علی گڑھ سے ایک گریجوایٹ نے یہودی اور عیسائی مذاہب کے مطالعہ کے لئے عملی ہدایات طلب کیں۔اس کے جواب میں حضور نے مندرجہ ذیل خط لکھوایا جو حضور کی وسعت معلومات اور مذاہب کے تقابلی مطالعہ کی ایک عمدہ مثال ہے۔حضور فرماتے ہیں :- دو کسی مذہب کا صحیح مطالعہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اس مذہب کے محققین کی کتابیں پڑھی جائیں اور سب سے بڑی چیز جس سے کسی مذہب کی ،