سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 128
128 ”میرے پاس ایک شکایت پہنچی ہے کہ مصری صاحب کے بعض ساتھی ایک جگہ کھڑے تھے کہ انہوں نے میری تصویر لے کر اس کی ایک آنکھ چاقو سے چھید دی اور اس کے نیچے رنجیت سنگھ کا نا لکھ دیا اور ایسی جگہ پھینک دیا جہاں سے احمدی اسے اٹھا لیں۔یہ شکایت پہنچانے والے دوستوں نے لکھا ہے کہ ہمیں یہ دیکھ کر سخت غصہ اور جوش آیا حالانکہ اس میں جوش کی کونسی بات تھی۔دشمن جب عداوت میں اندھا ہو جاتا ہے تو وہ اسی قسم کے ہتھیاروں پر اترا کرتا ہے پھر ہمارے لئے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہمارے بزرگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے الفضل ۹۔مارچ ۱۹۳۸ ء صفحہ ۷۶ ) غیر از جماعت ضرورتمندوں کی ضرورت کا علم ہونے پر خاموشی سے ان کی مالی واخلاقی مدد کرنے کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔مکرم مولوی عبد الرحمان صاحب انور جنہیں ایک لمبا عرصہ انچا رج دفتر تحریک جدید اور اسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت میں خدمت بجالانے کی سعادت 66 حاصل رہی وہ بیان کرتے ہیں کہ :- ایک مجاور سے حسن سلوک ربوہ کے آباد ہونے پر ضلع جھنگ کی ایک خانقاہ کے مجاور نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ان کو وہ اونٹ بہت پسند ہے۔لیکن خریدنے کی طاقت نہیں ہے جس پر حضور نے ایک خاص آدمی کو بھیج کر ۲۰۰ روپے میں وہ اونٹ خرید کر اس کے حوالہ کر دیا۔وہ حضور کی اس مہربانی پر بہت ہی ممنون ہوا اور باصرار کہتا رہا کہ کوئی خدمت میرے لائق۔حضور نے فرمایا :- اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں آپ سے کسی خدمت کی ضرورت نہیں ہے“ منافقین سے حسن سلوک حضرت فضل عمر کی مخالفت کرنے والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل تھے جو جماعت سے بظاہر تعلق رکھتے تھے مگر جماعت کے بلند اخلاق کے معیار کو قائم رکھنے کے لئے جب انہیں ان کی کسی بد معاملگی یا کمزوری کی طرف توجہ دلائی گئی تو بجائے اپنے نفس کی اصلاح کرنے اور اصلاح کے لئے توجہ دلانے والے کا شکریہ ادا کرنے کے