سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 127
127 میں بھی میں نے کہا تھا اور اب بھی میں کہتا ہوں کہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ اس قسم کے امور کے لئے جن کے متعلق حدود مقرر ہیں اور گواہی کے خاص طریق بتائے گئے ہیں قسموں وغیرہ کا مطالبہ جائز نہیں بلکہ ایسے مطالبہ پر قسم کھانا بھی اس حکمت کو باطل کر دیتا ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے۔ہاں جس پر الزام لگایا گیا ہو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اختیار ہے کہ جب وہ مناسب سمجھے الزام لگانے والے کو مباہلہ کا چیلنج دے لیکن چونکہ وساوس وشبہات میں مبتلا رہنے والا انسان خیال کر سکتا ہے کہ شاید میں نے قسم سے بچنے کے لئے اس قسم کا عقیدہ تراش لیا ہے۔اس لئے کم سے کم اس شخص کی تسلی کے لئے جو جانتا ہے کہ جھوٹی قسم کھا کر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بیچ نہیں سکتا میں کہتا ہوں کہ میں اس خدائے قادر و توانا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اور جس کی جھوٹی قسم کھا کر شدید لعنتوں کا انسان مورد بن جاتا ہے کہ میرا یہ یقین ہے کہ قرآن کریم کی اس بارہ میں وہی تعلیم ہے جو میں نے بیان کی اور اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی جب مجھ پر لعنت ہو۔اب وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ میں اس لئے قسم نہیں کھا تا کہ میں جھوٹا ہوں اور خدا تعالیٰ کی لعنت سے ڈرتا ہوں انہیں سوچنا چاہئے کہ اگر میں خود ان کے یقین کے مطابق خدا تعالیٰ کی جھوٹی قسم سے ڈرنے والا ہوں تو میری یہ قسم سچی ہے اور ب یہ قسم کچی ہے تو انہیں ماننا پڑے گا کہ میرا ان معاملات میں مباہلہ نہ کرنا یا قتم نہ کھانا اپنے عقیدہ کے رو سے خدا تعالیٰ کے حکم کے پورا کرنے کیلئے ہے۔یہ امر ظاہر ہے کہ جو شخص ایک جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا وہ دوسری جھوٹی قسم بھی نہیں کھایا کرتا لیکن اگر ان کا خیال ہو کہ میں اس بارہ میں جھوٹی قسم کھا رہا ہوں تو انہیں سوچنا چاہئے کہ پھر دوسرے امر میں جھوٹی قسم کھا لینے سے مجھے کیا عذر ہو سکتا ہے“ (الفضل ۲۰ نومبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۷ ) غیر معمولی تحمل مخالفوں کی اشتعال انگیز حرکات پر جوش میں نہ آنے اور بزرگوں کا طریق اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :-