سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 103
103 پہلے سے زیادہ ڈراؤنی شکل میں نمودار ہوتا تھا، وقت گزر گیا ، دن گزر گئے اور خبر بھی نہیں گویا بالکل تندرست تھی۔یہ واقعہ اپریل ۱۹۳۶ء کا ہے اس کے بعد خدا کے فضل و کرم سے وہ بالکل تندرست ہو گئی اور دسمبر ۱۹۳۶ء میں بچہ بھی پیدا ہوا۔بالآخر معروض ہوں کہ یہ وہی عورت ہے جو دنیا کے ڈاکٹروں کے نزدیک لا علاج اور نا قابلِ اولا د ثابت ہو چکی تھی مگر حضور کی دعا سے زندہ ہوگئی اور اب تک خوش و خرم زندگی بسر کر رہی ہے۔(الفضل ۱۰۔دسمبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۷ ) حضور کی قبولیت دعا کا تازہ نشان ” کے عنوان سے مگرم گیانی واحد حسین مربی سلسلہ احمد به مرحوم کا مندرجہ ذیل ایمان افروز بیان الفضل ۱۱۔دسمبر ۱۹۴۰ء میں شائع ہوا۔چوہدری عنایت اللہ صاحب سکنہ چک نمبر ۵۶۵ کے ہاں آٹھ لڑکیاں پیدا ہوئیں۔۱۹۳۹ء کے سالانہ جلسہ پر بوقت ملاقات جماعت نے سید نا حضرت (خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ حضور دعا فرمائیں خدا تعالیٰ چوہدری صاحب کے گھر اولاد نرینہ عطا فرمائے۔ماسٹر اللہ بخش صاحب نے یہ عرض کی تھی اس پر حضور نے فرمایا۔“ میں دعا کروں گا۔اللہ تعالیٰ لڑ کا عطا فرمائے گا۔اس وقت حاضرین میں چوہدری محمد الدین صاحب نمبردار، ماسٹر احمد خاں صاحب چوہدری سردار علی صاحب چوہدری محمد الدین صاحب چوہدری پیدائش اللہ صاحب وغیرہ بھی موجود تھے۔مستری اللہ دتہ صاحب غیر احمدی بھی تھے جنہوں نے کہا کہ اب خلیفہ صاحب کی صداقت کا پتہ لگ جائے گا اور اگر چوہدری عنایت اللہ صاحب کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو میں بیعت کر لوں گا۔ماسٹر اللہ بخش صاحب نے چوہدری عنایت اللہ صاحب کو مبارک باد دی۔خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ۲۶۔نومبر ۱۹۴۰ء کو خدا تعالیٰ نے چودھری صاحب کے گھر آٹھ لڑکیوں کے بعد لڑ کا عطا فرمایا۔۔۔۔۔۔اس بچے کی پیدائش سے جماعت کے ایمان میں تازگی پیدا ہوگئی ہے اور مستری اللہ دتہ صاحب بیعت کے لئے تیار ہیں۔گاؤں میں حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی دعا کی قبولیت کا چرچا ہے۔“ (الفضل ۱۱۔دسمبر ۱۹۴۰ء صفحه ۴ )