سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 102 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 102

102 عہد کیا کہ اب کوئی دوائی استعمال نہیں کی جائے گی بلکہ دعا اور صرف دعا۔اس دن یا دوسرے دن ہم نے ایک خط (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی۔ناقل ) کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا اور میری اہلیہ صاحبہ نے اپنے والد بزرگوار مولوی رحمت اللہ صاحب باغا نوالے۔بنگہ ضلع جالندھر کے پاس لکھا۔۔۔مولوی صاحب وہ خط لے کر حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں پیش ہوئے اور خط سنا کر روتے ہوئے دعا کے لئے عرض کیا۔حضور نے فرمایا۔رؤو نہیں۔لڑکی اچھی ہو جائے گی۔“ میں یہاں یہ ذکر بھی کر دینا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کے ایک مخلص صحابی کی لڑکی ہونے کی وجہ سے میری اہلیہ نماز پنچگا نہ کے علاوہ تہجد کی بھی عادی تھیں۔ایک دن میں صبح کے وقت اپنی ڈیوٹی سے واپس آیا تو مجھے خوشی خوشی کچھ سنانے کے لئے بٹھایا۔کہنے لگی نماز تہجد سے پہلے میں نے رویا میں دیکھا کہ حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ۔ناقل ) مکان میں دروازہ سے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کہتے ہوئے وارد ہوئے میں اٹھ بیٹھی اور اپنا کپڑا ٹھیک کیا اور جواب دیا وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ حضور نے میرا منہ اسی طرح پکڑا جیسے کسی بچہ کو دوائی وغیرہ دینے کے لئے جبڑے دبا کر منہ کھولا جاتا ہے۔حضور نے کچھ پڑھا۔میرے منہ میں کھو نکا اور میرا منہ چھوڑ دیا اور دریافت فرمایا ) آج کل کیا دوائی استعمال کرتی ہو۔میں نے عرض کیا۔حضور دعا کرتی ہوں۔حضور نے جواباً فرمایا۔بس یہی دوائی استعمال کرتی چلی جاؤ۔۔۔۔میں نے یہ سن کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور مجھے پورا یقین ہو گیا کہ اب بیماری دور ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔اس واقعہ کے دو چار دن بعد بیماری کا دورہ قریب تھا وہ بیماری جس میں مریضہ کبھی درد سے بیتاب ہو کر اٹھ اٹھ کر چھت کو پکڑتی تھی اور روتی کراہتی تھی اور کبھی بے حس و حرکت ہو کر بیہوش ہو جاتی تھی اور وہ بیماری جس سے پہلے ہمیشہ ہم میاں بیوی ایک دوسرے سے گناہ بخشوا لیتے تھے اور آخری وصیتیں یا تحریریں میری اہلیہ مجھے دے دیتی تھیں اور وہ بیماری کہ جس کا ہر ایک دورہ