سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 104 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 104

104 حضرت امام جماعت احمدیہ کی دعا کا اثر“ کے عنوان سے الفضل ۱۵۔جولائی ۱۹۲۷ء میں مکرم غلام علی فاروقی صاحب ساکن مطوعہ گجرنز د چنگا بنگیال کی طرف سے ایک نہایت روح پرور واقعہ شائع ہوا۔وہ لکھتے ہیں :- ” میرے برادر زادہ آغا محمد عبد العزیز بشیر احمدی کے متعلق عرصہ چار ماہ سے مقدمہ جعل سازی کی کارروائی جاری تھی۔مقدمہ کی تفصیل نہایت نازک ہے۔پیروی جناب خواجہ احمد حسن صاحب بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی وکیل۔۔۔۔۔۔نے کی۔مجسٹریٹ کا رویہ نہایت شدید محسوس ہوتا رہا اور آثار قہر آلود تھے۔آغا کے برخلاف ۲۲ شہادتیں تھیں جن میں سے ۴ انگریز آفیسر تھے بچنے کی کوئی امید نہ تھی۔جس دن ہماری طرف سے صفائی کے گواہ پیش کئے گئے اسی دن بحث بھی ہوگئی۔اور ۵۶۲ کی ضمانت پر زور دیا گیا مگر مجسٹریٹ نے منظور نہ کی۔اس سے نا امیدی زیادہ بڑھ گئی۔فیصلہ کی تاریخ ۳۰۔مئی ۱۹۲۷ء مقرر ہوئی۔آغا نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں ۲۸ مئی کو دعا کی درخواست تحریر کی۔ادھر یہ درخواست حضرت صاحب کے پاس پہنچی اور اُدھر فیصلہ کا دن آ گیا۔مجسٹریٹ صاحب نے فیصلہ لکھا اور آغا سے کہا تم سات سال جیل بھگتنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔یہ سن کر ہمارے حواس باختہ ہو گئے لیکن ہم نے جس عظیم الشان شخصیت کی آواز پر لبیک کہی ہوئی ہے اس کی وساطت سے خدا کے حضور میں درد دل سے روئے۔مجسٹریٹ نے کئی دفعہ تعزیرات اُٹھا کر پڑھی اور آغا سے مخاطب ہو کر کہا۔میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں۔آغا نے کہا۔جو خدا کو منظور ہو۔خدا تعالیٰ کا کچھ ایسا تصرف ہوا کہ مجسٹریٹ نے سات سال کی بجائے صاف بری کر دیا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ (الفضل ۱۵۔جولائی ۱۹۲۷ء صفحہ ۸) فیروز والا ضلع گوجرانوالہ کے ایک دوست رحمت علی صاحب زمیندار دعا کی برکت سے پھانسی کے پھندہ سے نجات پانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔وو احقر نے حضرت خلیفہ المسیح اول کے ہاتھ پر بیعت کی تھی مگر بوجہ بُری