سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 410 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 410

367 بہت پیار تھا۔ہجرت کے وقت حضور پاکستان تشریف لا چکے تھے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ابھی قادیان میں ہی تھے حالات خراب ہو رہے تھے آپ کو ان کے متعلق بہت تشویش تھی ٹہل ٹہل کر دعائیں کرتے رہتے تھے۔جس دن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لاہور پہنچے اور گھر میں داخل ہوئے آپ پہلے تو فوراً سجدہ میں گر پڑے اور پھر حضرت میاں صاحب کا ہاتھ پکڑا اور سیدھے حضرت اماں جان کے کمرہ میں تشریف لے گئے اور فرمانے لگے لیں اماں جان! آپ کا بیٹا آ گیا۔گویا بڑے بھائی ہونے کے لحاظ سے جو ان پر فرض عائد ہوتا تھا اس سے سبکدوش ہو گئے۔بھائیوں اور بہنوں سے محبت حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی وفات ۲۶۔دسمبر ۱۹۶۱ء کو ہوئی تھی ٹھیک ایک سال قبل ۲۶۔دسمبر ۱۹۶۰ء کو آپ گھبرا کر اُٹھے اور مجھے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میاں شریف احمد صاحب فوت ہو گئے ہیں۔میں نے کہا کہ وہ خدا کے فضل سے بالکل ٹھیک ہیں کہنے لگے نہیں ابھی فون کر کے داؤد سے کہو کہ خود ان کے پاس جا کر ان کو دیکھ کر آئے۔داؤد نے جب بتایا کہ خیرت سے ہیں تو کچھ تسلی ہوئی لیکن اس خواب کے اثر سے قریباً ساری رات جاگتے رہے اور دعا کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ کی مشیت دیکھیں کہ اس نے اس وقت دعاؤں سے اپنی تقدیر ٹلا دی اور ٹھیک ایک سال کے بعد اسی تاریخ کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی وفات ہوئی۔دونوں بہنیں بھی بہت پیاری تھیں لیکن حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ سے بہت زیادہ محبت اور بے تکلفی تھی۔سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سے بیٹیوں کی طرح مشفقانہ سلوک تھا لیکن ان کی بھی ذراسی تکلیف کا علم ہوتا تھا تو بے قرار ہو جاتے تھے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ آتیں تو اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے پرانے اور اپنے بچپن کے واقعات دُہراتے کبھی خود سناتے کبھی ان سے سنتے۔جب کوئی نئی نظم کہتے تو فرماتے مبارکہ کو بلا ؤان کو بھی سناؤں۔بچوں کے لئے انتہائی شفیق باپ تھے تربیت کی خاطر لڑکوں پر وقتاً فوقتاً انتہائی شفیق باپ تھی بھی کی لیکن ان کی عزت نفس کا خیال رکھا۔مجھے یاد ہے کہ قادیان سختی میں مجھے ان کی زور سے ڈانٹنے کی آواز آئی میں اندر کمرہ میں تھی ایکدم اس خیال سے باہر نکلی کہ دیکھوں کیا بات ہے کسے ڈانٹ رہے ہیں حضور کسی بچہ کو پڑھائی ٹھیک نہ کرنے پر ناراض ہو رہے تھے میں اسی وقت واپس چلی گئی۔تھوڑی دیر بعد جب اندر کمرہ میں آئے تو کہنے لگے میں جب اپنے بچہ کو ڈانٹ رہا تھا تو تمہیں وہاں نہیں آنا نہیں چاہئے تھا اس سے وہ شرمندہ ہو گا کہ مجھے تمہارے سامنے