سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 409
366 ” میں نے آپ کے کاموں کی تعداد ۱۵ بتائی ہے۔لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ آپ کا کام یہیں ختم ہو گیا ہے آپ کا کام اس سے بہت وسیع ہے اور جو کچھ کہا گیا ہے یہ اصولی ہے اور اس میں بھی انتخاب سے کام لیا گیا ہے اگر آپ کے سب کاموں کو تفصیل سے لکھا جائے تو ہزاروں کی تعداد سے بھی بڑھ جائیں گے اور میرے خیال میں اگر کوئی شخص انہیں کتاب کی صورت میں جمع کر دے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ منشاء پورا ہوسکتا ہے جو آپ نے براہین احمدیہ میں ظاہر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اس کتاب میں اسلام کی تین سو خوبیاں بیان کی جائیں گی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ وعدہ اپنی مختلف کتابوں کے ذریعہ پورا کر دیا۔آپ نے اپنی کتابوں میں تین سو سے بھی زائد خوبیاں بیان فرما دی ہیں اور میں یہ ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں“ (انوار العلوم جلد ۱۰۔صفحہ ۲۰۳) خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بھی اس خواہش کے مدنظر ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۶ء تک یہ تقریر میں اسی سلسلہ میں کیں جو فضائل القرآن کے نام سے شائع ہو چکی ہیں ان تقاریر سے بھی حضور کا منشاء تھا کہ قرآن کریم کی فضیلت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو تین سو دلائل دینے کا براہین احمدیہ میں وعدہ فرمایا تھا اسے ظاہری طور پر پورا فرما دیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت یہ تقاریر نا تمام رہیں اور بعض اور قرآنی مضامین کے متعلق حضور تقاریر فرماتے رہے۔حضرت اماں جان کی عزت واحترام حضرت اماں جان) کی عزت اور احترام کا مشاہدہ تو اپنی آنکھوں سے کیا ہے۔ایک دفعہ ایک عورت نے آپ سے شکایت کی کہ میرا بیٹا میرا خیال نہیں رکھتا آپ سمجھا ئیں۔آپ بے اختیار رو پڑے اور کہنے لگے مجھےسمجھ نہیں آتی کہ کوئی بیٹا ماں سے بُرا سلوک کر ہی کیسے سکتا ہے۔(حضرت اماں جان ) کا خود با وجود عدیم الفرصتی کے بہت خیال رکھتے تھے اور اپنی بیویوں سے بھی یہی امید رکھتے تھے کہ وہ حضرت اماں جان کا خیال رکھیں۔کبھی فراغت ہوئی تو حضرت اماں جان کے پاس بیٹھ جاتے آپ کو کوئی واقعہ یا کہانی سناتے، سفروں میں اکثر اپنے ساتھ رکھتے، جس موٹر میں خود بیٹھتے اس میں حضرت اماں جان کو اپنے ساتھ بٹھاتے۔کہیں باہر سے آنا تو سب سے پہلے حضرت اماں جان سے ملتے اور آپ کی خدمت میں تحفہ پیش کرتے۔اپنے بہن بھائیوں سے بھی