سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 411
368 ڈانٹ پڑی۔بیٹیوں سے بہت زیادہ محبت کا اظہار کرتے تھے لیکن جہاں دین کا معاملہ آ جائے آنکھوں میں خون اتر آتا تھا نماز کی مستی بالکل برداشت نہ تھی۔اگر ڈانٹا ہے تو نماز وقت پر نہ پڑھنے پر۔بچوں کے دلوں میں شروع دن سے یہی ڈالا کہ سب دین کے لئے وقف ہیں ان کو دینی تعلیم دلوائی۔جب ۱۹۱۸ء میں شدید انفلوئنزا کا حملہ ہو کر بیمار ہوئے تھے اور اپنی وصیت شائع کروائی تھی اس میں بھی یہ وصیت فرمائی تھی کہ بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم ایسے رنگ میں دلائی جائے کہ وہ آزاد پیشہ ہو کر خدمت دین کر سکیں جہاں تک ہو سکے لڑکوں کو حفظ قرآن کرایا جائے ، مئی ۱۹۵۹ء میں جب بیماری کا دوبارہ حملہ ہوا اس وقت بھی ایک وصیت کی تھی اس میں بھی یہی تاکید تھی کہ وہ ہمیشہ اپنی کوششوں کو خدا اور اس کے رسول کے لئے خرچ کرتے رہیں خدا کرے قیامت تک وہ اس نصیحت پر عمل کریں اور اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ان کو قیامت تک اسلام کا سچا خادم بنائے اور اسلام کے ہر دشمن کے لئے حق کا ایک زبر دست پنجہ ثابت ہوں اور ان کی زندگیوں میں کو ئی شخص اسلام کو ٹیڑھی نظر سے نہ دیکھ سکے۔حضور کا ایک عہد حضور نے ۱۹۳۹ء میں ایک عہد کیا تھا جو حضور کی ایک نوٹ بک میں جو حضور عموماً اپنے کوٹ کی اندر کی جیب میں یاد داشت وغیرہ لکھنے کے لئے رکھا کرتے تھے آپ کے قلم سے درج ہے اور وہ یہ ہے:۔' آج چودہ تاریخ (مئی ۱۹۳۹ء) کو میں مرزا بشیر الدین محمود احمد اللہ تعالیٰ کی قسم اس پر کھاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل سیدہ میں سے جو بھی اپنی زندگی سلسلہ کی خدمت میں خرچ نہیں کر رہا میں اس کے گھر کا کھانا نہیں کھاؤں گا اور اگر مجبوری یا مصلحت کی وجہ سے مجھے ایسا کرنا پڑے تو میں ایک روزہ بطور کفارہ رکھوں گا یا پانچ روپے بطور صدقہ ادا کروں گا یہ عہد سر دست ایک سال کے لئے ہوگا“ مرزا محمود احمد اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس شدید خواہش کے مطابق آپ کی اولا د کو تو فیق عطا فرمائی کہ انہوں نے بچپن سے ہی اپنی زندگیاں وقف کیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں سے قریباً سب ہی دین اور سلسلہ کی خدمت کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو مزید قربانیوں اور خدمتوں اور علم دین سکھانے کا موقع عطا فرمائے اور ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں ان کے مقدس والد کی روح کو خوشی پہنچتی رہے۔امِينَ اللَّهُمَّ آمِينَ۔