سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 27 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 27

27 مقالہ کا نفرنس کے سہ پہر والے اجلاس میں امپیریل انسٹی ٹیوٹ کے مین ہال میں پڑھا جانے والا تھا۔حاضری بے شمار تھی اور کوئی بھی سیٹ خالی نہ تھی ، بیشتر لوگوں کو پہلوؤں میں ہال کی پشت پر اور نیچے بڑے دالان میں کھڑے ہو کر تقریر سننا پڑی۔جب میری باری آئی اور میں اسٹیج کی طرف بڑھا تو میرا گلا خشک ہو رہا تھا اور میں اضطراب محسوس کر رہا تھا۔حضرت صاحب اسٹیج کے سامنے ہی تشریف فرما تھا جو نہی میں مقالہ پڑھنا شروع کرنے والا تھا آپ میری طرف جھکے اور نہایت ہی شیریں اور مشفقانہ لہجہ میں جو بیک وقت تسلی آمیز اور حوصلہ افزا بھی تھا فرمایا : - پریشان نہ ہوں۔میں دعا کروں گا“ اس مشفقانہ ہمدردی کے نتیجہ میں میرے دل کو دوبارہ یہ کمل یقین ہو گیا کہ میں پورے اعتماد سے اپنے کام سے عہدہ برآ ہو سکنے کے قابل ہوں۔مقالہ بڑی توجہ اور پورے انہماک سے سنا گیا۔مقالہ ختم ہونے کے بعد لوگ بڑی تیزی کے ساتھ حضرت صاحب کو مبارک باد اور سلام عرض کرنے کے لئے اسٹیج کی طرف بڑھے میں اسٹیج سے نیچے اتر آیا اور ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا۔ایک صاحب جو ایڈورڈ ہفتم کی خلعت پہنے ہوئے تھے اور جو مقالہ کے دوران ہال کے سب سے آخری کنارے پر کھڑے تھے۔میرے پاس آئے اور بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے تعجب سے کہا۔میں کچھ اونچا سنتا ہوں اور میں پیچھے کھڑا تھا لیکن میں نے ہر لفظ صاف طور پر سنا ہے نیز نہایت اعلیٰ اٹھارویں صدی کی انگلش سنی ہے۔جس میں جدید لغویت کی آمیزش نہیں اس پر مجھے کافی اطمینان ہو گیا۔ویس سے بمبئی کو واپسی سفر کے دوران حضرت صاحب جو کہ فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے تھے اپنا بیشتر وقت قافلے کے باقی افراد کے ساتھ گزارتے تھے۔جن میں سے اکثر افراد عرشہ پر سفر کر رہے تھے اور انہوں نے عرشہ پر سائبان تلے آرام دہ انتظام کر رکھا تھا۔ایک پرسکون شام جبکہ چاند اپنی سحر انگیز چاندنی لہروں