سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 28 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 28

28 پر بکھیر رہا تھا ہم چھوٹے بالائی تختوں پر اکٹھے ہو گئے۔حضرت صاحب کی تجویز پر میرے سوا سب نے نظمیں سنائیں۔اختتام پر ہم نے عرض کیا کہ حضور بھی نظم سنائیں۔کچھ جھجک اور تامل کے بعد آپ راضی ہو گئے لیکن اس شرط پر کہ ہم ان کے قریب ہو کر جھک جائیں کیونکہ ان کی آواز اتنی بلند نہیں ہو سکتی کہ تین فٹ سے زیادہ دورسنی جا سکے پس ہم آپ سے قریب ہو گئے پھر آپ نے آہستہ لیکن جذبات سے لبریز آواز میں غالب کی یہ غزل سنائی۔بساط اے تازه واردان ہوائے ول زنہار تم کو گر ہوس ناؤ نوش ہے دیکھو مجھے جو دیده عبرت نگاه ہو میری سنو ہے جو گوش نصیحت نیوش جب اس شیریں اور پیاری آواز کی آخری لرزش بادصبا میں لہرائی تو تب کہیں جا کر ہم ہوش میں آئے۔گویا کہ ہم کسی طلسم میں تھے جہاں سے اب نکلے ہیں۔ہر ایک آنکھ نمناک تھی اور ہر دل گہری سانسیں لے رہا تھا۔کوئی بھی ایک لفظ تک نہیں بول سکا۔ہر ایک نے جو کچھ محسوس کیا الفاظ میں اتنی استطاعت ہر گز نہیں کہ وہ اسے بیان کر سکیں۔اس مقدس اور نا قابل فراموش واقعہ کی خوشگوار یاد سے کافی عرصہ تک لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم بالکل ساکت و خاموش نیچے آ گئے۔یہ چالیس سال قبل کا واقعہ ہے اور ان دلفریب واقعات کو کئی صفحات پر پھیلایا جا سکتا ہے لیکن وقت اور جگہ اس امر کی ملتفی نہیں۔اس کے باوجود وہ دل جو بے پناہ محبت و شفقت کے مزے لوٹتا رہا ہے ، وہ آنکھیں جو آپ کی تابناک شان وعظمت مشاہدہ کرتی رہیں اور وہ کان جو گھنٹوں آپ کی باتیں آخری لہراتی ہوئی آواز کی مسحور کن موسیقی تک سنتے رہے، یہ تمام اعضاء ان تمام مقدس یا دوں کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کا یارا نہیں رکھتے۔ایسے ہی لمحات میں میرے دل کی حالت زیارتِ محبوب کی تمنا اور دلسوزی فراق میں مولانا جلال الدین رومی کے دل کی طرح ہو جاتی ہے۔جس نے فراق کی جانکاہ تکلیف کا ان اشعار میں اظہار