سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 26 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 26

26 ایک دن قبل شام کے وقت مجھے حضور کی موجودگی میں طلب کیا گیا اور حضور نے مجھ سے فرمایا کہ زیر غور مسئلہ یہ ہے کہ کانفرنس میں کس شخص کو پڑھنا چاہئے۔آپنے مزید فرمایا کہ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ میں بذات خودا سے پڑھوں لیکن مجھے انگریزی زبان اور بعض نامانوس الفاظ کے تلفظ پر پورا عبور حاصل نہیں ہے“ ایک یا دو نام پیش کئے گئے۔حضرت صاحب نے میری رائے دریافت فرمائی۔میں نے نہایت ادب و احترام سے عرض کیا کہ خاکسار اس کام کے لئے اپنے آپ کو مناسب خیال کرتا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس معاملہ کے بارے میں ایک آزمائشی ٹیسٹ کے ذریعہ تسلی کر لینی چاہئے۔ہم میں دو یا تین جنکے اسماء تجویز ہو چکے تھے انہیں مقالہ کے مختلف حصوں کو بلند آواز میں پڑھنے کو کہا گیا اور مخبرین کو گھر کی بالائی اور زیریں منزلوں میں مختلف مقامات پر مقرر کر دیا گیا اور تمام درمیانی دروازے کھلے چھوڑ دئے گئے تا کہ مخبر حضرات بغور سنیں اور ہر ایک کے اظہار بیان کی رپورٹ دیں۔مجھے یاد ہے کہ صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب مرحوم کی رپورٹ میرے حق میں تھی سوائے اس کے کہ انہوں نے میری آواز میں ہلکا سا بھاری پن محسوس کیا تھا۔حضرت صاحب نے اتفاق رائے فرمایا اور مجھے یہ شرف اس ہدایت کے ساتھ عطا کیا گیا کہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب میرے گلے کے بھاری پن کا علاج کریں۔ڈاکٹر صاحب اپنی ذمہ داری کے بارے میں اتنے سنجیدہ تھے کہ انہوں نے سخت قسم کے قے آور لیکچر کے ساتھ میرے ٹھیک ٹھاک گلے میں تیز دوائیاں لگانے کا ایک سلسلہ جاری کر دیا۔جس کا ہر عمل مجھے بیمار ہونے کے قریب سے قریب تر کر دیتا۔اگلی صبح ناشتے تک میں از روئے اطاعت تین یا چار دفعہ اس تیز علاج کا نشانہ بنتا رہا اور بالآخر ناشتہ پر اس اذیت کے جاری رکھنے کے خلاف حضرت صاحب کی خدمت میں درخواست کرنے پر مجبور ہو گیا۔در حقیقت اس شدید قسم کے قبل از وقت احتیاطی علاج کے نتیجہ میں اب میرا گلا بھاری رہنے لگ گیا تھا۔میری گذارش پر حضرت صاحب اور میز پر تشریف فرما تمام احباب بہت ہنسے اور خود ڈاکٹر صاحب بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکے اور میرا مزید علاج از راہ تر تم چھوڑ دیا گیا۔