سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 270 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 270

247 9 لاکھ روپے کا کام ڈیڑھ لاکھ میں سرانجام پانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔پھر یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ باوجود اس کے کہ ہم میں بہت سی کمزوریاں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں مخلص خادم عطا فرمائے ہیں جن کی محنت اور اخلاص کی وجہ سے ہمارے لنگر کا خرچ جلسہ سالانہ کے موقع پر اتنا کم ہوتا ہے کہ اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔باہر کھانے کا خرچ ایک روپیہ فی کس فی وقت پڑتا ہے لیکن ہمارے جلسہ پر کام کرنے والے جس محنت اور قربانی سے کام لیتے ہیں اور جس طرح مفت سلسلہ کی خدمات بجا لاتے ہیں، جس طرح نان پز اور باور چی بعض اوقات کم رقمیں لے کر کام کر دیتے ہیں، اس کی وجہ سے میں نے حساب لگایا ہے کہ ہمارا فی کس خرچ ایک آنہ پانچ پیسے یا ڈیڑھ آنہ پڑتا ہے۔اگر ڈیڑھ آنہ بھی لگا لیا جائے تو تین دن کا کھانا ساڑھے چار آنہ میں پڑ جاتا ہے۔گویا ایک روپیہ میں چار آدمیوں نے جلسہ گزار لیا۔اگر جلسہ سالانہ پر ۶۰ ہزار روپیہ خرچ ہو تو اڑھائی لاکھ آدمیوں کا گزارہ ہو گیا۔باہر اتنے آدمی ہوں تو کم سے کم تین چار لاکھ روپیہ خرچ آئے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جس کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے اس اخلاص کو زیادہ سے زیادہ الفضل ۱۸۔نومبر ۱۹۵۶ء صفحه ۳) بڑھاتا چلا جائے۔“ جلسہ کے موقع پر ۴۰-۵۰ ہزار آدمی باہر سے آتا ہے۔تو چند ہی سال میں تم دیکھو گے کہ انشاء اللہ لاکھ ، ڈیڑھ لاکھ ، دولاکھ ، اڑھائی لاکھ، تین لاکھ ، چار لاکھ ، پانچ لاکھ ، دس لاکھ پندرہ لاکھ بلکہ میں لاکھ بھی آئے گا اور بیس لاکھ آدمی آئے اور اس وقت جو جلسہ پر خرچ ہوتا ہے اسی نسبت سے خرچ لگایا جائے تو پانچ لاکھ روپیہ خرچ آئیگا اور اگر باہر والا خرچ لگایا جائے ایک کروڑ سے بھی زیادہ خرچ ہوگا کیونکہ ہر مہمان نے چار دن کھانا کھانا ہے۔تین دن بھی کھانا کھائے تب بھی چھ وقت کا کھانا دینا ہوگا اور اگر ایک ایک روپیہ فی وقت بھی خرچ لگایا جائے تو تین دن کا خرچ چھ روپیہ فی کس بنتا ہے۔اور اگر ایک لاکھ آدمی جلسہ پر آئے تو چھ لاکھ روپیہ خرچ ہوا، اگر ڈیڑھ لاکھ آدمی آئے تو 9 لاکھ روپیہ خرچ ہوا لیکن موجودہ شرح کے لحاظ سے تو چھ لاکھ آدمی آئے تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ میں کام بن