سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 271 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 271

248 جائے گا۔ایک لاکھ آدمی آئے تو ستر اسی ہزار روپیہ میں گزارہ ہو جائیگا الفضل ۱۸/ نومبر ۱۹۵۶ ء صفحه ۳) حضور اپنی تعلیمی حالت بیان کرتے ہوئے ریاضی میں کمزور ہونے کا بھی ذکر فرمایا کرتے تھے مگر رواروی میں اس طرح زبانی حساب بڑی مہارت اور تیزی سے کیا کرتے تھے دل کھول کر مالی قربانی کی ہزاروں لاکھوں مثالوں میں سے دو پُر لطف مثالیں درج ذیل ہیں۔اخبار سیاست کے کسی گمنام مضمون نویس نے لکھا کہ ”آئے دن چندے دیتے دیتے قادیانی مرید بھی کچھ تھک سے گئے ہیں اس پر جماعت کے بہت سے مخلص احباب نے جو پہلے ہی اپنی طاقت اور ہمت سے بہت بڑھ چڑھ کر ایک لاکھ چندہ کی تحریک میں حصہ لے رہے تھے دشمنوں اور حاسدوں کے غلط خیالات کا عملی جواب دینے کے لئے اور ایثار دکھانا شروع کر دیا چنانچہ ایک صاحب نے حضور کولکھا :- بندہ نے ۴۔اپریل ۱۹۲۵ء کے اخبار الفضل میں سیاست کے بودے اعتراضات پڑھے جن کو ایک عظمند نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔۔۔احمدی احباب تھک نہیں گئے بلکہ استقامت سے اپنے فرض منصبی کو ادا کر رہے ہیں لہذا مبلغ ایک سو روپیہ بندہ اپنے حساب سے زائد ایک لاکھ کی تحریک میں نقد ارسال کرتا ہے تا کہ دشمنوں کو معلوم ہو جائے کہ احمدی چندوں سے ہرگز نہیں تھکتے بلکہ اگر امام وقت حکم فرما ئیں کہ جانیں حاضر کرو تو بغیر حیل و حجت کے حاضر ہو جاویں۔“ ( الفضل ۲۱۔اپریل ۱۹۲۵ء صفحه ۲ ) جماعت کے امیر و متمول افراد مسلسل مالی قربانی کے جہاد میں پیش پیش تھے لیکن ایسے لوگ جن کے ہاں مال و دولت کی ریل پیل نہیں تھی اپنے اخلاص کی وجہ سے کسی سے پیچھے نہیں تھے کاٹ کاٹ کر قربانی دینا“ یہاں محاورہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ملک محمد الطاف حسین صاحب احمدی سکنہ ترناب ضلع پشاور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں لکھتے ہیں۔بوقتِ تحریک ایک لاکھ چندہ میں میں نے ایسی حالت میں دس روپے کا وعدہ لکھ دیا جبکہ ۲ اکتوبر ۱۹۱۴ ء سے علاقہ ہذا میں میری زرعی اراضی اور کاروبار وثیقہ نویسی بوجہ شدید مخالفت بند ہے۔دس روپیہ چندہ موعودہ میں سے پانچ روپیہ