سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 269
246 اس گاڑی سے اتر گئے لیکن بخار کی وجہ سے اپنا کوٹ جس میں ایک لاکھ روپے کے قریب چیک تھا جسے میر پور خاص خزانہ میں داخل کرنا تھا وہ وہیں سیٹ پر چھوڑ آئے اور گاڑی حیدر آباد سے روانہ ہو گئی۔بعد میں انہوں نے حیدر آباد سے حضور کی خدمت میں تار دی جو حضور کو غالباً خانپور کے قرب کسی سٹیشن پر ملی۔حضور یہ اطلاع ملتے ہی بنفس نفیس اس ڈبہ کا علم حاصل کر کے جس میں چوہدری صاحب نے سفر کیا تھا ایک دو خدام کے ساتھ پہنچے اور جس جگہ چوہدری صاحب کو سفر کرتے دیکھا تھا وہاں کسی اور مسافر کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔وہ کوٹ اسی طرح اس شخص کے نیچے تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے محفوظ تھا چنا نچہ اس طرح سے حضور کے اس فوری اقدام سے چیک صحیح سلامت مل گیا۔اگر کسی اور سے بات کی جاتی اور اس کا علم اس ڈبہ کی سواریوں کو ہو جا تا تو ممکن تھا کہ چیک مع کوٹ غائب ہو جاتا۔“ مالی تحریکات کے اجمالی تذکرہ سے یہ امر بخوبی ثابت ہو جاتا ہے کہ احمد یہ جماعت نے بے مثال مالی قربانی ، ایک دو دن نہیں ، ایک دو دفعہ نہیں ، مسلسل مالی قربانی پیش کی اور اس طرح پیش کی کہ اپنے اور پرائے اس پر حیران ہو ہو جاتے رہے۔اس محیر العقول قربانی کے نتائج یقیناً اس قربانی سے بھی زیادہ نتیجہ خیز اور حیران کن تھے کیونکہ ہر پیسہ دیانت دار ہاتھوں میں سے صحیح اور مناسب جگہ پر ہی خرچ ہوتا تھا۔صرف یہی نہیں کہ دینے والے خلوص نیت اور اجر و ثواب کی نیت سے دیتے تھے بلکہ لینے والے خشیت اور خدا کے خوف سے خرچ کرتے تھے اور اس طرح حاصل ہونے والے نتائج حیرت انگیز ہی نہیں معجزانہ نظر آتے۔وہ رقم جو ایک مکان بنانے کے لئے ناکافی نظر آتی ہو اس سے یورپ میں مساجد اور مشن ہاؤسز تعمیر ہوتے ہیں، وہ رقم جو ایک خاندان کی نقل مکانی کے لئے بھی بمشکل کافی ہو سکتی ہو اس سے صدر انجمن کے دفاتر لاہور سے ربوہ منتقل ہوتے ہیں، وہ رقم جو ایک سڑک بنانے کے لئے ناکافی لگتی ہواس سے ربوہ شہر کی داغ بیل پڑ جاتی ہے، وہ رقم جو کالج کے کسی کارکن کا مکان بنانے جتنی ہوتی اس سے کالج کی وسیع و عریض شاندار عمارات تیار ہو جاتی ہیں۔ان باتوں کو نہ تو پوری طرح سمجھا جاسکتا ہے اور نہ سمجھایا جاسکتا ہے۔جماعت کے ہر فرد نے مالی قربانیوں میں حصہ لیا اور اپنی حقیر مالی قربانیوں کے غیر معمولی نتائج اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے گویا یہ مشاہدے اور تجربے کی باتیں ہیں مگر دنیوی اندازوں، تخمینوں اور علوم سے بہت آگے اور بڑھ کر۔حضور ایک چھوٹی سی مثال دیتے ہوئے