سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 12
12 آگے آئے گا۔میں آپ کی پُر وقار محفل سے روحانی رفعت اور مکمل تحفظ کے جذبات لئے ہوئے اُٹھا۔اب تک نصف صدی گزر چکی ہے۔یہ مضمون مختصر سی ذاتی یادداشت پر مشتمل ایک حقیر کوشش ہے کیونکہ تمام واقعات کو ایک محدود مضمون میں قلمبند کرنا ناممکن ہے لہذا ان تمام یادوں کو میں نے چند مناسب حدود میں مجتمع کر دیا ہے۔ایک مضمون تو کجا ، میں یہاں اس حیران کن اخلاقی و روحانی انقلاب کا ایک مجمل خلاصہ بھی پیش نہیں کر سکتا جو گذشتہ نصف صدی کے دوران اس عظیم المرتبت اور پرکشش شخصیت کی ہدایات اور راہنمائی کے نتیجہ میں دنیا کے قریب و بعید کناروں پر افراد اور جماعتوں کی زندگیوں میں رونما ہوا ہے۔یہ کام ان ہی لوگوں کے لئے مخصوص رہنا چاہئے جو میری نسبت حقائق سے زیادہ واقف ہیں اور ضروری موازنہ کرنے اور اعداد و شمارمہیا کرنے کے زیادہ اہل ہیں۔جب حضرت خلیفہ امسیح الاول کے وصال پر جماعت میں اختلاف پیدا ہوا تو والدہ صاحبہ نے فوراً ہی اپنی بیعت اور میری ہمشیرہ اور چھوٹے بھائیوں کی طرف سے ان کی رضامندی کے ساتھ بیعت کا خط حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی خدمت میں ارسال کر دیا۔اور والد صاحب نے ایک ہفتہ کے اندر ہی یا تقریباً اتنے ہی عرصہ میں بیعت کی۔“ وو وہ حسن واحسان میں تیرا نظیر ہوگا“ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات بابرکات میں آنحضرت صلی الشمای آلہ سلم کی آمد ثانی سے متعلق پیشگوئی پوری ہوئی۔جیسا کہ پہلے سے ہی بتا دیا گیا تھا۔وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ ( الجمعة: ٤) اور ہم نے بنظر غائر آپ کی ذاتِ اقدس میں مؤخر الذکر کے عکس کو مشاہدہ کیا۔اسی طرح ہمیں توقع تھی کہ آپ (حضرت مسیح موعود ) کا عکس ہم آپ کے دوسرے جانشین میں بھی دیکھیں جو کہ آپ کے موعود فرزند بھی ہیں اور پیشگوئی