سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 11
11 منٹ جاری رہی۔میں نے انگلستان سے ایک یا دو دفعہ آپ کی خدمت میں خطوط لکھے اور نہایت درجہ بیش قیمت اور مناسب جوابات سے سرفراز ہوا۔مارچ ۱۹۱۴ ء میں حضرت خلیفہ اسیح الاول وصال پاگئے اور صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی کی حیثیت سے آپ کے جانشین منتخب ہوئے۔آپ کو اس وقت جماعت کی پچانوے فیصد افراد کی تائید اور اطاعت حاصل تھی۔میں ابھی تک انگلستان میں ہی تھا میں نے جونہی آپ کے انتخاب کی خبر سُنی اُسی وقت بیعت کا خط ارسال کر دیا۔اُن دنوں انگلستان سے قادیان ڈاک پہنچنے میں سترہ (۱۷) دن صرف ہوتے۔۲۔اگست ۱۹۱۴ء کو پہلی جنگ عظیم شروع ہو چکی تھی۔میں ۸۔اکتوبر کولنڈن سے روانہ ہو کر اوائلِ نومبر میں اپنے وطن واپس لوٹ رہا تھا۔یہ ایک نہایت خطرناک اور جان جوکھوں کا سفر تھا خصوصاً اس لئے بھی کہ جرمن جہاز ایمڈن (EMDEN) بحر ہند میں مصروفِ عمل تھا۔اور اب تک بیشتر برطانوی جہازوں کو تباہ کر چکا تھا۔ایس ایس عربیہ جس کے ذریعہ میں سفر کر رہا تھا۔بخیریت و بحفاظت بمبئی پہنچ گیا لیکن بعد ازاں کسی دوسرے سفر میں ایمڈن نے اسے غرق کر دیا۔“ حضرت چوہدری صاحب نے اطاعت و عقیدت کا شاندار نمونہ پیش کرتے ہوئے اپنے سراپا انتظار بنے ہوئے والدین اور عزیز واقارب کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے سب سے مقدم حضرت فضل عمر کی ملاقات کو رکھا اور سید ھے قادیان پہنچ گئے۔آپ لکھتے ہیں:۔سفر کے دوران میں بمبئی سے سیدھا قادیان گیا اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی تحریری بیعت کا زبانی طور پر احیاء کیا۔یہی میری آپ سے پہلی اور حقیقی ملاقات تھی۔اب جب کہ وہ شان اور مرتبہ میں بہت بلند ہو چکے تھے اور میرے روحانی پیشوا اور آقا تھے جن سے میں نے دل و جان کی گہرائیوں سے خالص اور سچی اطاعت کا عہد کیا تھا اور جن کی خدمت کے لئے میں اپنا نفس وقف کر چکا تھا اب میں آپ کی موجودگی میں پہلی ملاقاتوں کی نسبت کچھ کم جھجک محسوس کرتا اور میں اپنے آپ کو اس قابل پاتا تھا کہ میں گفتگو میں نہایت مناسب طریق سے اپنا مؤدبانہ اور عاجزانہ حصہ پیش کروں جس کا تذکرہ