سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 153
149 ہوتی ہے نہ سنی۔اور وہ علم جو آتا ہے وہ خدا کی طرف سے کشف کے طور پر آتا ہے۔یہاں پر لوگ آتے ہیں اور گفتگو کرتے ہیں اور بعد میں کہدیتے ہیں کہ آپ نے تو یہ علم خوب پڑھا ہوا ہے حالانکہ میں نے وہ علم نہیں پڑھا ہوتا اور یہ بات ایمان کو اور بھی پختہ کرتی ہے خواہ کوئی ساعلم ہو جس کو لوگ کتنا ہی اچنبھا خیال کرتے ہوں اس کے سامنے آنے پر فوراً خود بخود اس کی حقیقت کھل جاتی ہے اگر وہ بات غلط ہو تو اس کی غلطی اور اگر درست ہو تو اس کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔“ (الفضل ۱۱۔دسمبر ۱۹۱۹ء صفحہ ۱۴) مالیات اور تاریخ کے مطالعہ کی وسعت کا اندازہ حضور کے مندرجہ ذیل بیان سے ہوسکتا ہے:- تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو روپیہ تنظیم پر خرچ ہوتا ہے وہ نظروں سے پوشیدہ ہوتا ہے اس لئے قوم کی طرف سے جب بھی کوئی اعتراض ہوتا ہے وہ تنظیم سے متعلقہ اخراجات ہی پر ہوتا ہے۔۔۔۔۔اگر چہ ایسا اعتراض کرنا حماقت ہوتا ہے کیونکہ سب سے اہم چیز مرکزیت ہوتی ہے لیکن واقعہ یہی ہے کہ ہمیشہ ان اخراجات پر اعتراض کیا جاتا ہے تم انگلستان کی تاریخ کو لے لو، امریکہ کی تاریخ کو لے لو، فرانس کی تاریخ کو لے لو، جرمنی کی تاریخ کو لے لو، جاپان کی تاریخ کو لے لو، روس کی تاریخ کو لے لو، جب کبھی بھی میزانیہ پر اعتراض ہوا ہے تو اس کے اس حصہ پر ہوا ہے جو تنظیم کے لئے خرچ ہوا ہے۔کیونکہ یہ اخراجات نظر نہیں آتے۔“ الفضل فضل عمر نمبر ۵۔مارچ ۱۹۶۶ء صفحہ ۷ ) مشہور ادیب مؤرخ و محقق مکرم شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی جواد بی حلقوں میں بڑے احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے وہ اس سلسلہ میں اپنے حیران کن تجربے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔حضرت فضل عمر کی نہایت وسیع علمی ، ادبی اور تاریخی واقفیت و معلومات کا ایک تجربہ مجھے بھی ہوا۔میں نے سنسکرت کی مشہور کتاب کلیلہ دمنہ (جس کا فارسی اور اردو میں انوار سہیلی کے نام سے ترجمہ ہوا) کی تاریخ اور اس کے مختلف ترجموں کی تفصیل تین سال کی تلاش اور محنت کے بعد مرتب کی مگر میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب ایک مرتبہ خطبہ جمعہ میں برسبیل تذکرہ حضرت صاحب نے