سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 152 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 152

148 کرتے ہو تو اب سن لیں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے دنیوی علوم سے اس لئے محروم رکھا تا وہ خود میرا معلم بنے اور گو میں انسانی علوم میں فیل ہوں مگر الہی علوم میں پاس ہوں۔باوجود یکہ انسانی نظروں میں جاہل ہوں ، جاہل تھا اور جاہل رہوں گا مگر اللہ تعالیٰ کی نظر میں عالم ہوں ، عالم تھا اور عالم رہوں گا۔یاد رکھو میری روح بلکہ جسم کے ہر ذرہ سے خدا تعالیٰ کی آواز بلند ہوتی ہے اس نے میری آنکھیں کھولی ہیں اور میں سب کچھ دیکھتا ہوں اور اگر پھر بھی کوئی مجھے ذلیل سمجھتا ہے تو اس کی پرواہ نہیں، میرے لئے بس ہے کہ اس کی رحمت اور فضل مجھے ڈھانپ لے۔“ ( خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۴۸۷) مسٹر ساگر چند بیرسٹر ایٹ لاء جو ہندوؤں سے مسلمان ہو کر احمدیت میں داخل ہوئے جب قادیان آئے تو حضور نے انکو نصائح فرمائیں اور بتایا کہ آزمائش کے بعد ہی ایمان کی حقیقت کھلتی ہے۔اس ضمن میں فرمایا :- د ہمیں تو حقیقت میں وہ ایمان پسند ہے جو ایسا پختہ ہو جس کے بعد کوئی تحقیقات اس کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے۔بعض اوقات رسول کریم صل اللالیہ اور ہم کوئی بات فرماتے اور پھر فرماتے کہ وَلَا فَخْرَ۔اسی طرح میں بھی مجبوراً مثال کے طور پر نہ کہ کسی فخر کے لئے کہتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقین رکھتا ہوں کہ کوئی علم اور کوئی تازہ ترین تحقیقات قطعاً قطعا مجھ پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتی۔خواہ کسی علمی طریق پر اسلام کی صداقت کی جانچ کی جائے میں اس کا ثبوت دینے کے لئے تیار ہوں۔یہ ایمان کا ادنیٰ درجہ ہے ورنہ ایمان کا اعلیٰ درجہ اس سے بہت بلند ہے۔پس ایمان کی یہ خصوصیت ہے کہ خدا خود سمجھائے بیسیوں دفعہ نئے سے نئے علوم سامنے آتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ گھبرا جاتے ہیں لیکن مجھے اس وقت اس کے متعلق اللہ تعالیٰ علم دیتا ہے اور اس وسعت سے دیتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے اور ایسے ایسے علم دیتا ہے جنکے متعلق پہلے میں نے کبھی کوئی بات نہ پڑھی