سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 154 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 154

150 نہایت جامعیت لیکن اختصار کے ساتھ اس کتاب کی تمام تاریخ صرف چند لفظوں میں بیان کر دی اور ایسی سلاست اور روانی کے ساتھ کہ میں بے اختیار سوچنے لگا کہ یہ عجیب و غریب واقفیت اور عجیب و غریب قابلیت کا انسان ہے کہ اسے ہر علم اور فن سے پوری واقفیت ہے اور اس کا مطالعہ کتنا وسیع ہے کہ قصہ کہانیوں کی اس کتاب کی بھی ساری تاریخ اس نے چند لفظوں میں بیان کر کے رکھدی۔“ الفضل فضل عمر نمبر ۵۔مارچ ۱۹۶۶ ، صفحہ ۱۹) علمی فروغ و ترقی حضرت مصلح موعود کے علمی ذوق وشوق اور علوم ظاہری و باطنی سے پر ہونے کی وجہ سے جماعت میں بھی فروغ علم کا بہت رحجان تھا۔حضور اسی رحجان کو قائم رکھنے اور بڑھانے کے لئے ہمیشہ جماعت کو توجہ دلاتے رہتے تھے۔چنانچہ آپ عوام کے اس غلط خیال کہ تعلیم ، اساتذہ یا دوسری تنظیموں کی ذمہ داری ہے کی ایک مؤثر مثال دیتے ہوئے تردید کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ دراصل ماں باپ پر ان کی اولاد کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ہے۔یہ امید رکھنا کہ دنیا کا کوئی سکول یا کوئی بڑے سے بڑا محکمہ تعلیم وتربیت کا کام کر سکتا ہے بالکل غلط امید ہے۔آپ لوگوں کو خواہ برا لگے یا اچھا کچی بات یہی ہے کہ جب تک جماعت کے دوست فردا فردا اپنی اور اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہ کرینگے یہ بات بالکل ناممکن ہے۔خدا تعالیٰ نے تعلیم و تربیت کا اختیار خود ہمیں دیا ہے۔مگر ہم اسے استعمال نہیں کرتے۔مبلغ یا مدرس تعلیم و تربیت کا کام کبھی نہیں کر سکتے۔میرا سینکڑوں بار کا تجربہ ہے کہ جماعتوں نے شکایت کی کہ مبلغ ہمارے ہاں نہیں آتے مگر جب وہاں مبلغ گیا تو اس نے آکر شکایت کی کہ جماعت کوئی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتی۔اب پھر یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر دوست واقعی احمدیت سے کوئی فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو اپنے دلوں میں فیصلہ کر لیں کہ تعلیم و تربیت کا کام وہ خود کریں گے ، کوئی مبلغ یا مدرس یہ کام نہیں کر سکتا۔پیر اکبر علی صاحب اس وقت آپ لوگوں کے سامنے بیٹھے ہیں پہلے میری رائے یہ تھی کہ وہ تعلیم کا کام اچھی طرح نہیں کر سکتے۔یوں بھی وہ بہت مصروف آدمی ہیں،