سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 83 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 83

83 مجھے ترقی ملی اس میں شک نہیں کہ وہ حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی ) ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعا کی قبولیت کا ایک خاص نشان ہے۔چنانچہ اسی وقت ہمارے دفتر کے ایک ہند و صاحب نے مجھے کہا خانصاحب ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ آپ ترقی لے جائیں گے کیونکہ آپ کا پیر بڑاز بر دست ہے۔اس کے بعد میں نے چار سال اور ملازمت کی۔اور ۱۹۳۲ ء میں پنشن لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء مبارک کے مطابق قادیان دارالامان میں سکونت پذیر ہو گیا۔( خانصاحب) برکت علی عفی عنہ جوائنٹ ناظر بیت المال سلسلہ عالیہ احمد یہ قادیان۔الفضل ۲۸۔دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۵۲) حضور کی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی ترقی کے حصول کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے مکرم عبد الرحیم صاحب ہیڈ ڈ راسمین لاہور لکھتے ہیں :- ۱۹۳۲ء کے آخر میں جب ہائیڈرو الیکٹرک کی تعمیر ختم ہونے کو تھی مجھے نوٹس ملا کہ یا تو میں چھوٹا گریڈ منظور کرلوں یا نوکری چھوڑ دوں۔اس وقت میں ۲۶۴ روپے ماہوار لے رہا تھا اور چھوٹا گریڈ حاصل کرنے کے معنی تھے کہ ۱۵ اروپے منظور کروں میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی خدمت میں دعا کی درخواست کی اور ساتھ ہی عرض کیا کہ کیا میں چھوٹا گریڈ منظور کرلوں؟ چند دن کے بعد دفتر ڈاک کی طرف سے جواب ملا کہ حضور نے دعا فرمائی ہے لیکن اس بات کا کوئی جواب نہ تھا کہ میں چھوٹا گریڈ منظور کرلوں یا نہیں۔اس کے بعد میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا حضور نے گریڈ کم ہو جانے کے متعلق دریافت کیا تو میں نے عرض کیا زمینی فیصلہ تو ہو چکا ہے آسمانی کا مجھے علم نہیں۔حضور دعا فرمائیں۔حضور نے فرمایا ہاں میں دعا کروں گا۔اس وقت مجھے پورا یقین ہو گیا کہ گو پنجاب گورنمنٹ فیصلہ کر چکی ہے لیکن اسے اپنے فیصلہ میں ترمیم کرنی پڑیگی۔چنانچہ میرے رب نے اپنے محبوب کی دعا کو سنا اور با وجود مایوس کن حالات کے مجھے اسی گریڈ پر مستقل کر دیا بلکہ میرے اختیارات پہلے سے بھی زیادہ کر دیے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ