سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 82
82 گئے ہوئے تھے اور نئے صاحب سے نہ تو مجھے ذاتی طور پر زیادہ ملاقات کا موقع ملا تھا اور نہ وہ میرے کام سے پوری طرح واقف تھے اس لئے میں ان سے امداد حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ان حالات میں مجھے کامیابی کی کوئی امید نہیں تھی۔آخر میں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دعا کے لئے لکھنا شروع کیا اور روزانہ بلا ناغہ کئی دن لکھتا رہا۔چند روز کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل صاحب نے میری درخواست پر اس معاملہ کو پبلک ہیلتھ کمشنر صاحب کے واپس آنے تک ملتوی کر دیا اور مجھے امید ہو گئی کہ حضور کی دعا کی قبولیت کے آثار شروع ہو گئے ہیں اور میں انشاء اللہ ضرور کامیاب ہو جاؤ نگا۔تھوڑے دنوں کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل صاحب اچانک رخصت سے واپس آگئے۔اتنے میں ایک تیسرے آدمی نے درخواست دے دی کہ جب تک ان دونوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہوتا عارضی طور پر مجھے ترقی دی جائے۔جب مجھے اس بات کا پتہ لگا تو میں نے روزانہ بجائے خط لکھنے کے حضور کی خدمت میں تار دینا شروع کر دیا۔یہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل صاحب اس بات میں مشہور تھے کہ وہ زیادہ نہیں لکھا کرتے تھے اور ان کے فیصلے بہت مختصر ہوتے تھے۔مگر جب یہ معاملہ ان کے پاس گیا تو انہوں نے میرے حق میں قریباً ڈیڑھ صفحہ لکھا جس میں یہ ذکر تھا کہ میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں جب پبلک ہیلتھ کمشنر صاحب دورہ پر جاتے تھے تو اس کا کام براہِ راست میرے سامنے آتا تھا۔یہ بہت اچھا کام کرنے والا ہے اور گو عمر رسیدہ ہونے کے باعث ترقی سے پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتا مگر خواہ کس قدر بھی فائدہ ملے اسے محروم نہیں کیا جانا چاہئے۔پبلک ہیلتھ کمشنر صاحب کے انتظار کی ضرورت نہیں جس تاریخ سے ترقی واجب ہوتی ہے اسے فورا دے دی جائے۔معاملہ چونکہ اہم تھا اور چیف سپرنٹنڈنٹ صاحب کی رائے کے خلاف تھا۔اس لئے انہوں نے آخری منظوری کے لئے ڈائریکٹر جنرل صاحب کے پاس بھیج دیا میں نے ابھی چار دن متواتر دعا کے لئے تار دیا کہ ڈائریکٹر جنرل صاحب نے سفارش منظور کرتے ہوئے مجھے ترقی دے دی۔سرکاری دفاتر میں ترقی وغیرہ کے عجیب عجیب واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔مگر جن حالات میں