سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 84
84 یہ حضور ہی کی دعاؤں کا صدقہ ہے کہ میں اپنی لائن میں باوجود کم علم ہونے کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہوں۔خاکسار عبدالرحیم ہیڈ ڈرانسمین لاہور ( الفضل ۲۸۔دسمبر ۱۹۳۹ ، صفحہ ۵۲) مکرم غلام محمد صاحب اختر حضرت فضل عمر سے غیر معمولی محبت وعقیدت رکھنے والے بزرگ تھے۔سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے جماعتی خدمات کی توفیق پانے کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جماعت کی نمایاں خدمات کی توفیق پائی۔حضور ان پر بہت اعتماد فرماتے تھے۔غیر معمولی حالات میں دعا کی برکت سے ملازمت میں ترقی پانے کا ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- میں نے ۱۹۲۸ء کی فروری سے حضور کی خدمت میں یہ لکھنا شروع کیا کہ حضور دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ دین و دنیا میں ترقی دے۔جولائی ۱۹۲۸ء میں غیر معمولی طور پر مجھے پشاور سے جہاں میں ساٹھ روپیہ کا کلرک تھا اور ترقی کی کوئی راہ قطعا کھلی نہ تھی بلکہ ذہن میں بھی نہ آ سکتی تھی۔ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ صاحب نے خود بخود ایجنٹ آفس لاہور میں ایک انتخاب میں بھجوا دیا۔جہاں ۲۷۔اور اُمیدوار دو جگہوں کے لئے تھے۔وہ سب کے سب ۲۵۰ روپے سے اوپر تنخواہ لینے والے تھے۔وہاں بھی کسی کو یہ امید نہ تھی کہ میں منتخب ہونگا کیونکہ میری تنخواہ صرف ساٹھ روپیہ تھی۔دیگر امیدوار میرا مذاق اُڑاتے تھے وہ سب کے سب انگریز یا ایک دو پارسی تھے اور میرے انتخاب کو قطعی طور پر غیر ممکن سمجھتے تھے۔میں نے حضرت (خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی خدمت میں دعا کی درخواست کی اور ۱۴۰ روپیہ ترقی پر یعنی ۲۰۰ روپیہ نخواہ پر مقرر کیا گیا۔کچھ عرصہ بعد اچانک وہ آسامی بند کر دی گئی اور حکم آگیا کہ تم کو اپنی سابقہ تنخواہ ۶۰ روپیہ پر جانا ہوگا۔میں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کی خدمت عالیہ میں دعا کے لئے لکھا۔ابھی خط حضور کو ملا بھی نہ ہوگا کہ ایک انگریز انسپکٹر مر گیا افسرانِ متعلقہ نے مجھے اسی تنخواہ پر وہاں لگا کر راولپنڈی تبدیل کر دیا۔وہاں میں نے صرف ۵ ماہ کام کیا تھا کہ ایجنٹ آفس والوں نے کوشش کر کے میری جگہ ایک سینئر آدمی بھجوا دیا اور مجھے پھر تنزل کا حکم مل گیا۔حضور سے دعا کرائی جارہی تھی کہ اچانک ایک اور