سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 424 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 424

381 حضرت اماں جان کو بھی گرمی بہت محسوس ہوتی اس لئے آپ کی کوشش ہوتی کہ خود جائیں یا نہ جائیں ان کو بھجواد میں گو حضرت اماں جان سے زیادہ دنوں کی جُدائی برداشت نہیں کر سکتے تھے اور اماں جان کو بھی آپ کی چند دن کی جدائی گوارا نہ تھی اس واقعہ میں حضور کی سیرت کا ایک اور دلکش پہلو بھی نظر آتا ہے کہ آپ کو اپنی مقدس والدہ سے انتہائی پیار تھا جس کا اظہار زندگی بھر ہی ہوتا رہا۔محترمہ صاحبزادی صاحبہ نے ہی ایک واقعہ بیان کیا کہ : - حضرت اماں جان کا بے حد احترام تھا سفر پر جانے سے پہلے حضرت اماں جان سے ضرور پوچھتے۔واپسی پر سب سے پہلے حضرت اماں جان کو ملتے۔سب ازواج اور بچے ابا جان سے ملنے حضرت اماں جان کے گھر ہی کھڑے ہوتے مگر حضرت اماں جان کو مل کر سب سے ملتے اور ادھر توجہ کرتے“ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بھی حضور کی یہ نمایاں خوبی بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:۔حضرت اماں جان سے بچپن سے بہت مانوس تھے اور آپ کی عزت اور محبت ہر وقت آپ کے آرام کا خیال حضرت مسیح موعود کے وصال کے وقت بہت بڑھ گیا تھا۔حضرت اماں جان کے دہلی والے عزیزوں کا بھی خاص خیال رکھتے اور بہت ان کی خاطر داری فرماتے۔جب دہلی جاتے بلا بلا کر ملتے تھے۔حیدر آباد دکن میں حضرت اماں جان کے ننھالی عزیز تھے۔احمدی بھائیوں کو سمجھا سمجھا کر ان کی دعوتیں قبول کیں اور زیادہ وقت ان سب عزیزوں کی دعوتوں میں ہی صرف ہوا تھا۔پھر پارٹیشن کے بعد جو عزیز آتے رہے سب کی ہر طرح امداد کرتے رہے محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ بچوں سے پیار ومحبت اور ان کی دلجوئی اور دلداری کے متعلق ایک بہت پیارا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں : - ۱۹۲۴ء کا واقعہ ہے ہم پہلی مرتبہ کشمیر گئے تو آ سنور سے کوثر ناگ برف دیکھنے گئے امی جان بیمار تھیں اور حضرت اُم المومنین گھوڑوں کے سفر کی وجہ سے جانہ سکیں۔حضرت ابا جان مجھے اور بھائی جان کو ساتھ لے گئے کہ یہ بڑے بچے