سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 425
382 ہیں دیکھ آئیں۔راستے میں سخت اولے اور بارش ہوگئی۔بکریوں کے ریوڑ رکھنے کے دو کمروں میں رات گزارنے کا انتظام کیا گیا کمروں میں لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ جلا دی گئی سب اپنے اپنے کپڑے نچوڑ کر سکھانے لگے۔میں گیلے کپڑوں میں ایک طرف کھڑی تھی حضرت ابا جان باہر سے خوش خوش اندر آئے اچانک آپ کی نظر مجھ پر پڑی تو چہرے پر رنج کے آثار پیدا ہوئے فرمانے لگے ”بی بی کپڑے نہیں سکھائے“ پھر اپنا دھسہ دیا کہ یہ اوپر لے لو اور مجھے اپنے کپڑے اتار دو میں سکھا تا ہوں میں نے گرم جوڑا اُتار کر دھسہ لے لیا ابا جان میرے کپڑے نچوڑنے اور سکھانے لگے آپ کو سکھاتے دیکھ کر دوسروں نے کوشش کی کہ ان کے ہاتھ سے کپڑے لے کر خود سکھا دیں مگر ابا جان نے ایک طرف سے خود پکڑا اور ایک طرف سے مجھے پکڑوایا اس طرح میرا گرم جوڑا سکھا کر پھیلا دیا۔اور میرا بستر خود بچھا کر مجھے لٹایا۔یہ باپ کی محبت اور خبر گیری کا ایک نمونہ ہے حضرت ابا جان کو اُس وقت یہ خیال تھا کہ اس کی اماں اس کے ساتھ نہیں ہیں اس لئے سب سے زیادہ اور پہلے اس کا خیال رکھنا چاہئے تھا۔آپ اندازہ لگائیں کہ ان بچوں کو جن کی مائیں ان کو بچپن میں چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے حضور چلی گئی تھیں کتنا خیال رکھتے ہو نگے“ بچوں کی اس طرح تربیت کرنے کے لئے کہ ان میں خوف وبُزدلی کی بجائے جرات و بہادری پیدا ہو محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ ایک سبق آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں : - :- میری عمرکوئی چار پانچ برس کی اور بھائی جان (حضرت خلیفتہ امسح الثالث ) کی عمر چھ سات برس کی تھی ان دنوں حضرت ابا جان رات کا کھانا حضرت اماں جان نَوَّرَ اللهُ مَرْقَدَهَا کے ساتھ کھایا کرتے تھے گرمی کی رات تھی باہر چونکیوں پر کھانا کھا رہے تھے حضرت ابا جان نے بھائی جان کو امی جان کے کمرے سے کوئی چیز غالباً کتاب لانے کو کہا چونکہ اندھیری رات تھی ہمارے دروازے سے حضرت ( اماں جان کے دروازے تک چند قدم کا راستہ بہت تاریک تھا بھائی جان ڈر کی وجہ سے جانے سے ہچکچا رہے تھے حضرت ابا جان نے مجھے آواز