سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 423 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 423

380 کے ساتھ میں کھیل رہی تھی لڑکیوں نے کوئی کھیل تالی بجانے والا کھیلا۔میں بھی بجانے لگی تو مجھے کہا۔کھیلومگر تم نہ کبھی تالی بجانا یہ لوگ بجایا کریں ހނ بہن بھائیوں کی دل داری تو کرتے ہی تھے۔بہن بھائیوں کی اولاد سے بہت پیار اور محبت کا ہمیشہ سلوک کیا۔اپنے بچوں کے لئے تو کچھ لحاظ اور شرم بھی پہلے پہل کہ اماں جان کے سامنے گود میں لینا پیار کرنا اس میں شرم محسوس کرتے مگر حضرت بڑے بھائی صاحب نے بہت ہی ان سے لاڈ پیار کا سلوک رکھا اب تک سلام ( محتر مہ امۃ السلام صاحبہ بنت حضرت میرزا بشیر احمد صاحب) کی کوئی تکلیف سُن کر برداشت نہیں کر سکتے تھے۔میری شادی کے بعد اکثر قریباً روزانہ دار السلام کا پھیرا ہوتا تھا۔ہمارے زیادہ باہر رہنے کے ایام میں کوٹلہ بھی آتے اور شملہ بھی۔سفر کو کہیں جا رہے ہوتے تو ضرور سخت تاکید سے مجھے بلاتے کہ تم میرے ساتھ چلو مجھے یاد نہیں کہ کبھی کہیں جانے کی صلاح ہو رہی ہوا اور مجھے باصرار نہ کہا ہو کہ چلو۔مجبوری کے سبب میں نہ جاسکتی یہ اور بات تھی۔پھر بھی کئی سفر آپ کے ساتھ کئے“ بچیوں سے پیار اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کا اہتمام چھوٹی عمر تک ہی محدود نہ تھا بلکہ بڑی عمر میں اور ان کی شادی کے بعد بھی جاری رہتا۔محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں کہ :- عموماً لوگ شادی کے بعد لڑکیوں کے جذبات واحساسات کا اتنا خیال نہیں رکھتے مگر ابا جان شادی کے بعد بھی ہمارا بے حد خیال رکھتے۔میری بڑی بچی عزیزہ امتہ الرؤوف سلمہا کی پیدائش سے قبل گرمیوں کے دن تھے حضرت ابا جان کے سامنے کہیں میں نے گرمی کی زیادتی کا اظہار کر دیا آپ نے پالم پور مکان کا انتظام کروا کر حضرت اماں جان کے ساتھ مجھے اور میری دوسری بہنوں کو پالم پور بھجوایا دیا۔آپ کبھی کبھی ایک دو روز کے لئے تشریف لے آتے۔اسی طرح بچی دس گیارہ ماہ کی تھی اور دانتوں کی وجہ سے گرمی کو زیادہ محسوس کر رہی تھی اُس وقت بھی حضرت اباجان نے حضرت اماں جان کے ساتھ مجھے پہلے ہی دھرم سالہ بھجوا دیا۔خود ایک ماہ بعد تشریف لائے۔چونکہ