سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 392 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 392

349 حضرت (خلیفہ اسیح الثانی) نے دعا میں شریک ہونے کے لئے مدعو فرمایا جو حضور کے ہمراہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے۔ڈیڑھ سو کے قریب احباب کو حضرت میر صاحب نے دعوت دی تھی۔سب احباب کی چائے، مٹھائی اور پھلوں سے تواضع کی گئی۔دعا کے بعد یہ مبارک تقریب اختتام پذیر ہوئی۔(الفضل ۲۔اکتوبر ۱۹۳۵ء) آنحضرت صلی اللہ والدیلم کے اخلاق حسنہ اور عظمت کردار کے متعلق اُم المومنین حضرت خدیجہ کی یہ گواہی: - كَلَّا وَاللهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ اَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَحْمِلُ الْكَلَّ وَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَ تَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ۔یعنی بخدا اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ذلیل نہیں کرے گا آپ صلہ رحمی کرتے دوسروں کا بوجھ اُٹھاتے وہ اخلاق جو کہیں نہیں پائے جاتے آپ میں پائے جاتے ہیں آپ مہمان نوازی کرتے اور مصائب میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔بہت عجیب گواہی ہے جس میں کسی مبالغہ کے بغیر آنحضرت صلی العلی آلہ سلم کے اخلاق فاضلہ اور سیرت طیبہ کو نہایت جامع اور مختصر الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ نے بھی كَانَ خُلُقُهُ الْقُرآنُ کہہ کر اسی طرح سمندر کو کوزہ میں بند کیا ہے۔بیوی کی گواہی کی اہمیت اس لحاظ سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے کہ اس پر اپنے خاوند کی کوئی بات مخفی نہیں ہوتی اور وہ اس کی زندگی کے ہر پہلو کو بہت قریب سے دیکھتی ہے۔حضرت فضل عمر کی ازواج کی یہ عملی گواہی ہے کہ آپ کی ساری زندگی دین کے لئے وقف تھی اور آپ کو آنحضرت صلی اللہی الہلم اور قرآن مجید سے عشق تھا۔مناسب ہوگا کہ حضرت سیدہ ائم متین مریم صدیقہ صاحبہ کا ایک مضمون یہاں پیش کر دیا جاوے اس میں سیرت کے متعدد پہلو بہت خوبی سے ظاہر ہوتے ہیں :- چن لیا تو نے مجھے ”ابن مسیحا کے لئے وو سب سے پہلے یہ کرم ہے میرے جاناں تیرا حمید یہ شعر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے جو آپ نے بزبان حضرت اماں جان فرمایا تھا۔لگا کر میں بھی جتنا خدا تعالیٰ کا شکر ادا کر سکوں کم ہے۔اسے م ابنِ مسیحا