سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 393
350 ہزاروں دور د و سلام آنحضرت صلی اللہ یہ آلہ وسلم پر جن کے طفیل ہمیں اسلام جیسی نعمت حاصل ہوئی اور پھر ہزاروں سلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو اسلام کو دوبارہ لائے اور ہم نے زندہ خدا کا وجود ان کے ذریعہ سے دیکھا آنحضرت صلی اللہ یہ آلہ ہم پر ان کی وجہ سے ایمان لانا نصیب ہوا اور میرے رب کا کتنا بھاری احسان مجھ ناچیز پر ہے کہ اس نے مصلح موعود کے زمانہ میں مجھے پیدا کیا نہ صرف ان کا زمانہ عطا فرمایا بلکہ اس کی قدرت کے قربان جاؤں اُس نے مجھ نا چیز ہستی پر کتنا بھاری انعام اور احسان فرمایا کہ مجھے اس پاک و نورانی وجود اس قدرت و رحمت اور قُربت کے نشان اور مثیل مسیح کے لئے چن لیا۔آپ کی صحبت سے فیض حاصل کرنے ، آپ کی تربیت میں زندگی گزار نے اور پھر اس پاک وجود کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔خدا تعالیٰ کی کیا شان ہے دینے پر آئے تو جھولیاں بھر بھر کر دیتا ہے میں کیا اور میری ہستی کیا۔اللہ تعالیٰ کا یہ اتنا بڑا انعام ہے کہ اس کے احسان اور انعام کا تصور کر کے بھی عقل حیران رہ جاتی ہے۔سر آستانہ الوہیت پر چھک جاتا ہے اور منہ سے بے اختیار نکل جاتا ہے۔میں تو نالائق بھی ہو کر یا گیا درگہ میں بار میری اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی رفاقت کا زمانہ تمہیں سال ہے۔آپ کی سیرت پر روشنی ڈالنے سے قبل اپنی شادی اور اس کا پس منظر بیان کرنا ضروری سمجھتی ہوں۔میری شادی اور اس کا پس منظر میرے والد صاحب حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی پہلی بیوی سے ایک لمبا عرصہ تک کوئی اولاد نہیں ہوئی۔حضرت اماں جان) کی خواہش تھی کہ میرے بھائی کے ہاں اولاد ہو۔بھائی سے محبت بھی بہت زیادہ تھی۔حضرت اماں جان نے میری شادی کے بعد کئی دفعہ مجھ سے یہ ذکر فرمایا کہ جب میاں محمود ( حضرت خلیفہ المسیح الثانی) چھوٹے تھے تو میرے دل سے بار بار یہ دعا نکلتی تھی کہ الہی ! میرے بھائی کے ہاں بیٹی ہو تو میں اس کی شادی میاں محمود سے کروں لیکن جو بات بظا ہر ناممکن نظر آتی تھی یعنی حضرت اماں جان کی دعا اور خواہش وہ میری شادی کے ذریعہ پوری ہوئی۔سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیم میں ذکر کر چکی ہوں کہ میرے ابا جان کے ہاں جب بڑی والدہ صاحبہ سے جو بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہیں کوئی اولاد نہیں ہوئی تو حضرت اماں جان اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے زور دینے پر میرے ابا جان نے مرزا محمد شفیع صاحب کی بڑی لڑکی