سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 347 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 347

303 جموں کسل شملہ ایسٹ ۱۹۳۰ء۔۸-۲۸ عزیز مکرم ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ چند ہفتوں سے آپ کی طرف سے آپ کے حالات کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔معلوم نہیں اس کی کیا وجہ ہے۔امید ہے آپ ڈاک میں تبلیغی حالات سے اطلاع دیتے رہیں گے تا دعا کے لئے اس وجہ سے بھی تحریک ہوتی رہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلم حقوق کی نگہداشت کیلئے یہاں مفید کام ہو رہا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ ان کوششوں سے مسلمانوں کو معتد بہ فائدہ پہنچے گا۔آپ کے لئے اور آپ کے علاقہ کے لئے دعائیں کی جا رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم آپ کے ہر حال میں شاملِ حال رہے۔مکرم کرم الہی ظفر صاحب کی بیگم کے نام مندرجہ ذیل خط حضور نے اُس وقت لکھا ؟ اپنے خاوند کے پاس سپین جا رہی تھیں۔مسلمانوں کے لئے سپین کی اہمیت ، وہاں خدمت اسلام کی ضرورت کے بہت وسیع مضمون کو بہت مختصر مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے:- تم اُس ملک جارہی ہو جس پر مسلمانوں نے پہلی صدی میں قبضہ کیا اور سات سو سال تک وہاں قابض رہے۔اس ملک کا مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل جانا ایک بڑے دُکھ کی بات ہے مگر ملک تو نکلتے ہی رہتے ہیں وہاں سے اسلام کا نکل جانا اصل صدمہ ہے اور ایسا صدمہ ہے جسے کسی مسلمان کو بھلانا نہیں چاہئے۔شیعہ امام حسین کی یاد میں ہر سال تعزیے نکالتے ہیں یہ ایک بدعت ہے مگر اگر کسی صورت میں یہ بھی جائز ہوتا تو مسلمانوں کو سپین کا ماتم ہر سال کرنا چاہئے تھا یہاں تک کہ ہر بچے ، ہر بوڑھے کے دل پر زخم کا اتنا گہرا نشان پڑ جاتا کہ کوئی مرہم اُسے مندمل نہ کر سکتی۔تم خوش قسمتی سے وہاں جارہی ہو۔اپنے فرض کو یاد رکھو اور اپنے خاوند کو یاد دلاتی رہو۔تمہارا جانا تمہارے خاوند کو تبلیغ سے سُست نہ کر دے بلکہ آگے سے بھی چست بنائے۔صحابیات جب جنگوں میں جاتی تھیں تو اپنے خاوندوں کو خیموں میں نہیں گھسیٹتی تھیں بلکہ خیموں سے باہر نکالتی تھیں۔اس وجہ سے ان کا نام عزت سے یاد کیا جاتا ہے اور قیامت تک یاد