سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 348
304 کیا جائے گا۔مل بیٹھنے کا وقت مرنے کے بعد بہت لمبا ملنے والا ہے اس کی یاد میں ان کام کے دنوں کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانا چاہیے (۶۵۴-۳-۲) اس خط کا ہر لفظ اسلام کے لئے حضور کے دکھ درد اور لگن کا مظہر ہے اور وہ جذبات جو اس خط میں نظر آتے ہیں وہی حضور کی ساری زندگی میں نظر آتے ہیں۔یعنی پوری لگن ، پوری توجہ ، پوری ہمت سے مسلسل بغیر کسی وقفہ اور سُستی کے خدمت دین کرتے چلے جانا۔خط کی آخری سطر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ میں بیان کی گئی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔جس سے انسان کی کارکردگی میں زبر دست اضافہ ہو سکتا ہے۔خط وکتابت کے سلسلہ میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضور اپنے نام آنے والے ہر خط کا جواب دینا اپنا اخلاقی فرض سمجھتے تھے اور اس فرض کو خوب نبھاتے تھے۔ڈاک میں تو کبھی خط ضائع ہو سکتا تھا مگر یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ حضور کو خط ملا ہو اور حضور نے اُس کا جواب نہ دیا ہو۔حضور کے جوابات میں سے بعض نمونے درج ذیل ہیں ان سے بخوبی پتہ چل سکتا ہے کہ آپ کے نام آنے والے خطوط میں ہر قسم کے مسائل کا ذکر ہوتا تھا۔حضور کا جواب ہر احمدی کے لئے سکون کا خزانہ ہوتا اور راہنمائی کا بہترین ذریعہ بھی۔مخلص والدین نے بچے کو وقف کے لئے پیش کیا تو حضور نے فرمایا :- اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔بچے کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ بڑا ہو کر خود اپنے آپ کو خدمت کے لئے پیش کرے“ ایک خاتون نے اپنے بیٹے کی علالت کا ذکر کیا ہوا تھا۔حضور نے فرمایا : - بنفشہ کو چائے کی طرح دم کر کے دن میں ایک دو بار دیدیا کریں ایک دوست نے اپنا خواب حضور کی خدمت میں تحریر کیا کہ آپ نے میرے نام ایک خط میں تحریر کیا ہے کہ لالیاں میں دکان کھول لو حضور نے جواب میں لکھوایا: - اگر ہومیو پیتھک سے واقفیت ہے تو (لالیاں میں ہی) دکان کھول لیں۔شروع میں کام تھوڑا نظر آتا ہے لیکن اگر صبر اور استقلال سے آدمی کام کرے تو اللہ تعالیٰ برکت دیتا ہے۔البتہ اس طریق علاج میں محنت زیادہ کرنی ہوگی ایک احمدی نے انڈونیشیا سے لکھا کہ میری بیوی مجھ سے ناراض ہو کر اپنے والدین کے ہاں چلی گئی ہے۔میں اسے واپس لانے کا سوچتا ہوں مگر میرے والدین اس سے روکتے ہیں۔