سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 273 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 273

250۔۔۔۔۔چوہدری صاحب کا چندہ باقی متفرق مدات کو ملا کر اڑھائی لاکھ بات ہے۔بن جاتا ہے۔ہماری جماعت کے افراد جس قدر مالی قربانیاں کر رہے ہیں اس کی مثال اور کہیں نہیں مل سکتی ایک آدمی پندرہ بیس روپے کماتا ہے اور اس رقم میں اس کا گھر کا گزارہ بھی نہیں چل سکتا وہ خود فاقے رہتا ہے لیکن روپیہ ڈیڑھ روپیہ چندہ دے دیتا ہے۔“ مکرم عبد الحق صاحب رامے جو لمبا عرصہ کراچی کے بہت کامیاب سیکرٹری مال رہے اور بعد میں مرکز میں ناظر بیت المال کی ذمہ داری ادا کرتے رہے وہ حضور کی پر اثر مالی تحریکات کے متعلق لکھتے ہیں :- " حضور کی زبان کے اثر کے متعلق ہر احمدی اپنے نفس میں غور کر سکتا ہے کہ جب بھی حضور کی طرف سے کوئی آواز بلند ہوئی ، دل یہی کہتا تھا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر حضور کی تحریک پر لبیک کہی جائے۔حضور کے الفاظ دل کی گہرائیوں میں اُترتے چلے جاتے تھے اور لوگوں کو دیوانہ وار اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔چنانچہ حضور کی اس خدا داد طاقت گویائی نے جماعت کو مالی قربانیوں کے معیار کو بلند کرنے میں ہمیشہ جادو کا کام کیا اور حضور کی ہر تحریک توقع سے بہت بڑھ کر کامیاب ہوئی۔جن کی تفصیل بیان کرنا تحصیل حاصل ہے۔حضور کی بے شمار تقاریر اور تحریریں ایسی ہیں جنہوں نے احباب کے دلوں میں ان مٹ نقوش چھوڑے اور جماعت کو خدائی راہ میں والہا نہ آگے قدم بڑھانے کے لئے مدہوش کر دیا۔انجمن کی مالی مشکلات اور کارکنوں کو باقاعدہ الاؤنس نہ مل سکنے کا ذکر کرنے کے بعد حضور نمائندگان مجلس مشاورت کو مالی قربانی میں اضافہ کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں۔یہاں جو انجمن کے کارکن ہیں وہ نہ سودی لین دین کر سکتے ہیں اور نہ 66 قرض لے سکتے ہیں۔ان کی تنخواہوں کا ایک سال تک رک جانا یا دفاتر کے سائر اخراجات نہ ملنا اور اس وجہ سے کاموں کا رک جانا خوشگوار نتائج پیدا نہیں کرسکتا اور بظاہر وہی نظارہ پیدا ہوسکتا ہے (سوائے اس کے کہ خدا تعالی مدد کرے) جو حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے ایک ریاست میں دیکھا انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رات کو سرکاری وردی پہن کر پہرہ دیتا ہے اور دن کو بھیک مانگتا ہے انہوں نے اس سے پوچھا تمہارے اس طریق عمل کا کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا میں