سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 274 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 274

251 سرکاری ملازم ہوں مگر دو سال سے مجھے تنخواہ نہیں ملی نہ ملازمت سے علیحدہ کیا جاتا ہے۔ایسی حالت میں بھیک نہ مانگوں تو اور کیا کروں۔۔۔۔بظاہر ہماری مالی حالت اسی مقام پر پہنچی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ہم اپنے جاری شدہ کاموں کو بند نہیں کر سکتے۔اگر ہم نے اس طرف قدم اٹھایا تو پھر ہمارا کوئی ٹھکا نانہیں رہ سکتا۔جب ہم کسی ایک کام کو غیر ضروری قرار دے کر ترک کر دیں گے تو دوسرا کام اس سے بھی زیادہ غیر ضروری نظر آئیگا۔پس ہمارے لئے یہ طریق بھی کھلا نہیں اور نہ ہم اسے اختیار کر سکتے ہیں۔۔۔۔ہمارے لئے ایک ہی رستہ کھلا ہے اور وہ یہ کہ ہم زیادہ سے زیادہ قربانیاں کریں اور باقاعدہ کریں رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ صفحه۱۰۰) ۱۹۴۴ء کی مجلس مشاورت کے موقع پر حضور جماعت کو اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں :- ہزاروں لوگ ہماری جماعت میں ایسے تھے جن کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ کاش ! وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہوتے اور ان کو آپ سے ملنے اور باتیں کرنے کا موقع ملتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔مجھے چونکہ خدا نے رسول صلی اللہ دی اورمسلم کا بروز قرار دیا ہے اس لئے صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ، وہ شخص جس نے مجھ کو پا لیا اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیگا کہ وہ صحابہ سے جاملے گا۔میں گذشتہ ایام میں اپنے ایک خطبہ کے ذریعہ واضح کر چکا ہوں کہ صحابہ سے ملنے کے معنے رسول کریم صلی الشماید آل وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے نہیں ہیں بلکہ صحابیت کا مقام حاصل کرنے میں خود انسان کے اعمال کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہادی اور مسلم کے بعد آنیوالوں میں سے کئی ایسے لوگ ہیں جو گو رسول کریم صل اللمادر ای میل کو نہیں دیکھ سکے تھے مگر انہوں نے ایسے رنگ میں اعمال کئے جن سے ان کی اس کو تا ہی کا کفارہ ہو گیا اور با وجود اس کے رسول کریم صلی اللہادی اور مسلم سے وہ جسمانی طور پر نہیں ملے تھے خدا تعالیٰ نے روحانی طور پر آپ سے ملا دیا اور اس طرح آپ کے صحابہ میں وہ شامل ہو گئے۔