سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 272
249 پہلے ادا کر چکا ہوں مزید پانچ روپیہ کے لئے دل نے بوجہ تنگ دستی تساہل اختیار کیا مگر ایک ماہ کی مزید میعاد کے اندر ہر وقت بوقت نماز تہجد دل شرمندہ ہو کر کہتا کہ کہیں سے قرض لے کر ادا کر دوں۔تا وعدہ شکنی پر اللہ کریم ناراض نہ ہو مگر حالات امتحانی تھے کہ کچھ انتظام نہ ہو سکا۔اسی اثناء میں متواتر تین رات تہجد پڑھتے وقت حضور کی پیاری شکل ممبر پر رونق افروز ہو کر تحریک کا نظارہ اچانک اندھیری رات میں آنکھوں کے سامنے آ جاتا۔آج صبح میں نے اپنے اضطراب کا ذکر اپنی بیوی سے کیا تو اس نے کہا چھوٹے بچوں کے عید کے کپڑوں کے لئے اور تین روپے آٹے کے لئے گل دس روپے کا نوٹ ہے۔ان میں سے پانچ روپیہ آج ہی بقایا چندہ میں ۳۰۔جون سے پیشتر بھیج دو۔اس لئے اللہ کریم کا شکر گزار ہوں کہ باوجود اس قد ر ابتلاء اور تنگ دستی کے اس نے اپنے فضل سے یہ توفیق بخشی۔قبول فرما کر دعا فرما دیں۔“ (الفضل ۱۸۔جولائی ۱۹۲۵ء صفحه ۲ ) حضرت فضل عمر جماعت کی مالی قربانی کو بے مثال قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔" کہا گیا ہے کہ ایک پارسی نے ایک لاکھ روپے چندہ دیا ہے اور اس پر بڑے فخر کا اظہار کیا گیا ہے حالانکہ اس میں فخر کی کونسی بات ہے ہماری جماعت میں بہت سے ایسے آدمی ہیں جنہوں نے لاکھ لاکھ روپے سے زیادہ کی مالی قربانی کی ہے مثلاً چوہدری ظفر اللہ خانصاحب کو ہی لے لو۔انہوں نے مجھے اپنی زمیں کا ایک حصہ بطور نذرانہ پیش کیا تھا تا کہ میں اپنا علاج کراسکوں میں نے وہ زمین تحریک جدید کو دے دی اور وہ ڈیڑھ لاکھ میں کی۔اب دیکھ لو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب تاجر نہیں وہ پارسی تو تاجر ہوگا اور اس کی آمد چوہدری ظفر اللہ خانصاحب سے یقیناً بہت زیادہ ہوگی۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب تو ملازم ہیں اور انکم ٹیکس ادا کرنے کے بعد ان کی تنخواہ میں سے دو ہزار یا اکیس سو ماہوار بچتے ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے ڈیڑھ لاکھ روپیہ تک ایک ہی وقت میں دے دیا۔اسی طرح میں نے ایک دفعہ حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ میں نے جو چندے اور عطیے جماعت کو دیے ہیں ان کو ملایا جائے تو دو لاکھ ستر ہزار کے قریب رقم بنتی ہے اگر انہیں ایک تاجر نے ایک لاکھ روپیہ دے دیا ہے تو اس میں فخر کی کونسی