سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 205
201 تجویز کے خلاف تھیں اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ناصر احمد کا میرے ساتھ بیٹا ہونے کا جو تعلق ہے اس کی وجہ سے اسے کوئی فائدہ پہنچے ( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ صفحه ۷۸ ) اپنے اسی طریق کاراور اصول کو بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: - سلسلہ مقدم ہے سب انسانوں پر سلسلہ کے مقابلہ میں کسی انسان کا کوئی لحاظ نہیں کیا جائے گا خواہ وہ کوئی ہو۔حتی کہ اگر حضرت مسیح موعود کا بیٹا بھی مجرم ہو تو اس کا بھی لحاظ نہیں کیا جائے گا۔اگر ہمیں اپنی اولادوں کو بھی قتل کرنا پڑے گا۔تو ہم اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیں گے لیکن سلسلہ کو قتل نہ ہونے دیں گے ( الفضل ۱۵۔جون ۱۹۴۴ء ) ایک اور موقع پر حضور نے تربیت کے اس ضروری پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: - اگر ہمارے خاندان کا کوئی نوجوان اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتا تو صاحبزادہ صاحب صاحبزادہ صاحب کہہ کر اس کا دماغ بگاڑنا نہیں چاہئے بلکہ اس سے کہنا چاہئے کہ آپ ہوتے تو صاحبزادہ ہی تھے مگر اب غلام زادہ سے بھی بدتر ہور ہے ہیں اس لئے آپ کو چاہئے کہ اپنی اصلاح کریں اسلام میں نسلی فوقیت الفضل ۱۸۔فروری ۱۹۴۸ء صفحه ۵) ہر گز نہیں ایک نہایت بلند پایه بزرگ حضرت مولوی شیر علی صاحب جو حضرت فضل عمر کے استاد تھے اور بعد میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے اور جماعت کی گراں قدر خدمات سرانجام دینے کی توفیق پائی اپنے لمبے تجربہ کے خلاصہ کے طور پر بیان کرتے ہیں کہ حضور عدل وانصاف اور چھوٹے بڑے میں کوئی امتیاز نہیں فرماتے“ اور یہ بھی کہ باوجود اس کے حضور میرے ساتھ بہت تلطف سے پیش آتے ہیں میں بھی ہمیشہ اس امر کے لئے متفکر رہتا ہوں کہ کوئی امر خلاف منشاء حضور سرزد نہ ہو جائے۔حضرت مسیح موعود کے خاندان کے افراد کو خدا تعالیٰ کی احسان شناسی کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- ” میرا تو عقیدہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باقی اولاد بھی اگر اس پر غور کرے تو اسے سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے احسان کے بعد کہ شدید ترین گمراہی کے وقت میں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمارے