سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 206 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 206

202 خاندان میں سے مبعوث فرمایا۔اس احسان کے بعد بھی اگر ہمارے اندر دنیا طلبی اور دین سے بے رغبتی پائی جائے تو ہم سے زیادہ بدقسمت اور کون ہوسکتا ہے۔اس ایک احسان کے بدلہ اگر ہمارا سر قیامت تک خدا تعالیٰ کے آگے جھکا رہے تو ہم اس احسان کا بدلہ نہیں اُتار سکتے یہ خدا تعالیٰ کا اتنا بڑا احسان ہے کہ اس سے بڑھ کر احسان ممکن نہیں“ الفضل ۲۳۔جنوری ۱۹۴۵ء صفحه ۴ ) اپنے خاندان کو بطور خاص نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- میں آج اس امانت اور ذمہ داری کو ادا کرتا ہوں اور آج ان تمام افراد کو جو رجل فارسی کی اولاد میں سے ہیں رسول اللہ صلی اللہ و آلہ سلم کا یہ پیغام پہنچاتا ہوں۔رسول کریم صلی اللی او ایم نے امت محمدیہ کی تباہی کے وقت امید ظاہر کی ہے کہ ابنائے فارس دنیا کی لالچوں ، حرصوں اور ترقیات کو چھوڑ کر صرف ایک کام کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں گے اور وہ کام یہ ہے کہ اسلام کا جھنڈا دنیا میں بلند کیا جائے۔یہ امید ہے جو خدا کے رسول نے کی اب میں ان پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔خواہ میری اولاد ہو یا میرے بھائیوں کی وہ اپنے دلوں میں غور کر کے دیکھیں کہ ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وو الفضل ۵ - جولائی ۱۹۳۴ء صفحه ۲ خطبہ نکاح حضرت مرزا ناصر احمد صاحب) اس طرح ایک اور موقع پر ہمہ جہتی اصلاح کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے خاندان کے بعض افراد میں بھی یہ سستی آ گئی ہے اور ہمارے گھر کے بعض بچے بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔میں نے ان کے متعلق یہ دیکھا ہے کہ جب میں مسجد میں آتا ہوں تو وہ شاذ ہی مجھے یہاں نظر آتے ہیں بلکہ گھر میں سنتیں پڑھ کر انتظار کرتے رہتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ میں گھر سے ہو کر مسجد میں چلا گیا ہوں تو اس وقت وہ دوڑتے ہوئے نماز میں آ شامل ہوتے ہیں۔آج تو ان کو بے شک یہ سہولت میسر ہے مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میں ہمیشہ رہنے والی ہستی نہیں۔ہمیشہ رہنے والی ہستی تو حی و قیوم خدا ہی کی ہے میرے بعد جو خلیفہ ہو گا کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کس گھر کا فرد ہو گا۔اس وقت انہیں