سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 155
151 اسمبلی کے ممبر ہیں ، ڈسٹرکٹ بورڈ میں بھی ہیں، مسلم لیگ کے بھی ممبر ہیں، ریاست کے قانونی مشیر ہیں اور اپنی پریکٹس بھی کرتے ہیں مگر پھر بھی وہ بچوں کی تعلیم کا بہت اچھا خیال رکھتے ہیں وہ ایک نمونہ ہیں۔۔۔۔۔پیر صاحب کا ماحول ایسا ہے کہ مجھے ان سے امید نہ ہو سکتی تھی اور ان کے لڑکے عزیزم پیر صلاح الدین صاحب کے متعلق میرا خیال تھا کہ انہوں نے خود کوشش کر کے دینی تعلیم حاصل کی ہے مگر جب میں فیروز پور گیا اور ان کے دوسرے بچوں کو دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس میں پیر صاحب کی کوشش کا دخل ہے۔۔جو یہ امید رکھتے ہیں کہ انجمن ان کے لئے سکول کھولے اور مدرس اور مبلغ مقرر کرے وہ غلطی کرتے ہیں بیشک اگر طاقت ہو تو ضرور سکول بھی کھولے جائیں مگر حقیقت یہی ہے کہ تعلیم و تربیت کا کام سکولوں اور مبلغوں سے نہیں ہو سکتا۔رسول کریم صلی الللی اور ظلم کے زمانہ میں ایک بھی سکول نہ تھا مگر پھر بھی یہ کام نہایت اعلیٰ پیمانہ پر ہوتا تھا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ صحابہ میں سے ہر ایک نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ یہ میرا کام ہے کہ خود سیکھوں اور دوسروں کو سکھاؤں۔تو اصل تربیت خود ماں باپ ہی کر سکتے ہیں۔“ (رپورٹ مشاورت ۱۹۴۲ء صفحه ۱۲۔۱۳) تعلیم کو عام کرنے کا یہ طریق کتنا آسان مگر مفید اور مؤثر ہے کہ اس سے زیادہ مؤثر کوئی ذریعہ آج تک دریافت نہیں ہو سکا۔حضور کے ہر منصوبے اور سیکیم میں سادگی کا پہلو بہت نمایاں ہوتا تھا اس لئے آپ نے بارہا اس خواہش کا اظہار فرمایا اور اس پر مختلف مواقع پر عمل کر کے بھی دکھایا کہ ہماری مساجد ہمارے تعلیمی مراکز ہوں جہاں ہر شخص چھوٹا ہو یا بڑا بآسانی استفادہ کر سکتا ہے۔حضور کا مندرجہ ذیل ارشاد بھی اس راہنما اصول کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ سادگی سے تعلیم کو عام کیا جاوے۔اگر ٹیگور ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے شاگردوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ علوم سکھا سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک احمدی معلم ایسا نہ کرے۔ہمیں اپنی تعلیم نہایت سادگی سے پھیلانی چاہئے اور حتی الامکان زائد اخراجات سے بچنا (الفضل ۸۔اپریل ۱۹۴۷ ء صفحه ۳) چاہئے۔66 جماعت کے ہر فرد کے لئے لکھنا پڑھنا ضروری قرار دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :-