سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 623
560 جواب دیا کہ اخبار نویس خواتین فرداً فرداً میری بیگمات سے ہی پوچھ کر دیکھ لیں۔میں نے اپنی شعوری زندگی میں بڑے بڑے مسلمان لیڈروں اور قائدینِ فکر کو بنیادی اسلامی نظریات کے متعلق معذرت کے انداز میں باتیں کرتے دیکھا ہے مگر خدا کی قدرت دیکھئے کہ مہذب اور متمدن دنیا کے مرکز لندن میں بیٹھ کر اپنے قول وفعل سے اسلامی نظریات کی مردانہ وارحمایت مرزا بشیر الدین محمود ہی کے حصہ میں آئی۔ان کا تیسرا کارنامہ جسے ان کا آخری پیغام سمجھا جانا چاہئے یہ ہے کہ انہوں نے اہلِ مذہب کو عام اس سے کہ وہ عیسائی ہوں، یہودی ہوں، ہندو ہوں یا سکھ اس خطرے سے آگاہ کیا جو خدا پرستوں کو خدا کے نام سے بیزار تحریک کے ہاتھوں درپیش ہے۔انہوں نے پکار کر کہا اے خدا پرستو ! اے خدا کو ماننے والو! خدائی مذہب کے سر پر جو مہیب خطرہ منڈلا رہا ہے وہ ایک ایسی تحریک کا بنیادی اصول ہے جو اپنے خطرناک ہتھیاروں سے مسلح ہو کر خدا پر ایمان کی بنیاد ہی کو ڈھا دینے پر آمادہ ہے۔اس تحریک نے تمہارے اندر اس حد تک نفوذ کر رکھا ہے کہ اب مسلمانوں کے بیٹے بیٹیاں مسلمان گھروں میں اور مسلمان کے دانش ور مسلمانوں کی مجلسوں میں خدا ہی کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور جب خدا ہی کے وجود کا انکار ہو گیا تو نبوت شریعت کے نقوش کس طرح دلوں میں قائم رہ سکتے ہیں آؤ سب اہلِ مذہب لا مذہبیت کے اس طوفان کا مقابلہ مل کر کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر خدا پر یقین رکھنے والے اور اپنے اپنے زمانے کے ابنیاء پر اعتقاد رکھنے والے مرزا بشیر الدین محمود احمد کی اس آواز پر انکی زندگی میں کان دھرتے تو خدا جانے اس شخص کی قائدانہ صلاحیت اور قوت تنظیم اس خطرے کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کیسی کیسی مؤثر تجاویز کو جامہ عمل پہناتی۔اے بسا شده آرزو که خاک المختصر ان کی زندگی ، ان کی وضع قطع ، ان کے لباس، ان کی تحریر و تقریر میں بے شمار خصوصیات ایسی تھیں جن پر اسلامی تحریک اور اسلامی معاشرہ بجا طور پر فخر کر سکتا ہے“