سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 624 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 624

561 درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تحریک احمدیت نے عام انسانوں پر کیا اثرات چھوڑے ہیں اس تحریک سے متاثر ہونے والوں کا کردار کیسا بن گیا ہے میں صرف اپنے مشاہدات کی بات کرتا ہوں کیونکہ جیسا پہلے ذکر کر چکا ہوں طبیعت پرو پیگنڈے کے طوفان سے نفور ہے اسلامی معاشرہ میں گردو پیش کو دیکھیں تو کیا نظر آتا ہے۔کالج میں ایک صاحب کی طبیعت نے یکا یک پلٹا کھایا تو انہوں نے پنج وقت نماز با قاعدہ شروع کر دی ان کے اس شغف کو دیکھ کر ہوسٹل میں رہنے والے دوسرے ساتھیوں نے بے ساختہ کہا ”اوئے! اینیاں نمازاں شروع کر دتیاں نی کہتے مرزائی ہون دا ارادہ تے نہیوں کر لیا۔کسی کے منہ پر داڑھی ہو، کوئی باقاعدہ زکوۃ دینی شروع کر دے تو دیکھنے والوں کو اس پر احمدی ہونے کا دھوکا ہوتا ہے۔مخالفوں کی گالی کے جواب میں گالی طنز کے جواب میں طنز اختیار نہ کرنے والے کو اور ناملائم الفاظ کو صبر سے برداشت کرنے والے کو دیکھ کر کہتے وہ مرزائی معلوم ہوتا ہے۔اپنی جوانی کے زمانہ کی بات کرتا ہوں۔اپنے سے ایک کم عمر نوجوان سے جو میری طرح گریجویٹ بلکہ ڈبل گریجویٹ تھے میں نے کہا، بڑی اچھی پکچر لگی ہے چلو جا کر دیکھ آئیں۔کہنے لگا جی تو میرا بھی چاہتا ہے مگر حضرت صاحب نے منع فرمایا ہے یہ فنونِ لطیفہ کا شائق اور بظاہر ہماری طرح فلموں کا مشتاق نوجوان محض اس پابندی کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک اچھی پکچر سے محروم کرتا ہے کہ اس کے امام نے فلم سے پر ہیز کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ نوجوان چہور والے چوہدری نبی احمد تھے مولوی محمد الدین صاحب ہیڈ ماسٹر کے صاحبزادے محمد عبد اللہ ایم اے میرے ساتھ دفتر میں اردو رپورٹر تھے میں نے اس نوجوان کو بھی پابند صوم و صلوۃ، راست گو، شریف النفس اور ہر لحاظ سے مثالی مسلمان نوجوان پایا۔اسی طرح میں نے جس جوان احمدی کو دیکھا۔اسے ایک سانچے میں ڈھلا ہوا پایا اور وہ سانچہ ہر لحاظ سے اسلامی نظر آتا تھا۔“ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب لودھراں ریلوے سٹیشن پر ایک ہندور کیس کی حضور