سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 622 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 622

559 میں انہوں نے ایک فاضل یو نیورسٹی لیکچرار کی طرح نقشہ جات، بلیک بورڈ اور گراف کی امداد سے بعض نکات کی وضاحت کی تھی۔مجھے ایک نقطہ یاد ہے اور وہ یہ کہ افسوس ہے کہ تقسیم ملک سے پہلے ان جزائر کی طرف توجہ نہ دی گئی جو ساحلِ ہند کے ساتھ ساتھ واقع ہیں لکادیپ اور سرندیپ بالا دیپ وغیرہ ان ساحلی جزیروں کی آبادی اکثر و بیشتر مسلمانوں پر منحصر ہے اور ان کی اہمیت دفاعی نقطہ نگاہ سے بہت زیادہ ہے۔ارشادات سن کر سامعین میں عام تاثر یہ پایا جاتا تھا کہ کاش تقسیم کی کارروائی کے وقت خلیفہ صاحب کا اشتراک عمل حاصل کر لیا جاتا۔بے جا تعصب اور خود فریبی نے قومی سطح پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کی خدا داد صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہاتھ سے کھو دیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ حقیقت مجھ پر طالب علمی کے زمانہ میں ہی منکشف ہو گئی تھی که آدمی کو دشمنوں کے پرو پیگنڈے سے اندھا دھند متاثر نہیں ہونا چاہیئے میں مرزا بشیر الدین محمود احمد سے متعلق جن باتوں کو ان کے کارنامے سمجھنے پر علی وَجْهِ الْبَصِيرَت مجبور ہوں وہ مختصراً یہ ہیں اول ہائی کورٹ میں مخالف احمدیت کے تحقیقات کے سلسلے میں ان کا کردار اور فاضل حج کے سوالات کے جواب میں ان کی توضیحات لوگ حیران تھے کہ وہ ایسے ماحول کی مشکلات سے کیسے عہدہ برا ہوں گے مگر انہوں نے دیگر مسائل کے علاوہ وحی کی حقیقت جیسے مافوق الفطرت مسائل پر ایسی توضیحات پیش کیں کہ سننے والے انگشت بدنداں رہ گئے۔ایک جج نے نجی صحبت میں اعتراف کیا کہ انہیں اپنی ساری فضیلت کے باوجود ان مافوق الفطرت مسائل کے متعلق رتی بھر واقفیت بھی نہیں تھی۔مرزا محمود احمد کی توضیحات کو سن کر ان کے چودہ طبق روشن ہو گئے اور پہلی بار بعض اسلامی نظریات کا صحیح صحیح علم ہوا۔ان کا دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ وہ انگلستان کے سفر پر اپنی بیگمات کو ساتھ لے کر گئے اور جب تعدد ازدواج کے اسلامی نظریہ کے مخالف عیسائیوں نے بیویوں کے ساتھ انصاف کے امکانات کا مسئلہ اٹھایا تو اس شیر نے مردانہ وار ///