سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 43
43 بہادری کے ساتھ اپنا کام کریں اور دلیل کے زور سے اپنے خیالات سے اختلاف رکھنے والوں کو اپنی بات منوائیں نہ کہ زبردستی۔ہاں جو لوگ بلا وجہ آپ کے کام میں روک ڈالنا چاہیں ان سے بھی نہ ڈریں کہ بزدل دین اور دنیا دونوں میں ذلیل ہوتا ہے۔اگر آپ اس تجویز کے مطابق عمل کریں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد سے آپ لوگ کامیاب ہوں گے اور خدا تعالیٰ کی تائید آپ کو حاصل ہوگی“ الفضل ۲۲۔جولائی ۱۹۲۷ء صفحہ ۸) غصہ اور اشتعال کی وجہ سے بعض لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنا اور اپنی قوم کا نقصان کر لیتے ہیں اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا: - جاؤ ނ پس اے دوستو ! یہ کام کا وقت ہے جیل خانہ میں جانے کا وقت نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں اس وقت بیداری پیدا کر دی ہے اس بیداری۔فائدہ حاصل کرو یہ دن روز نصیب نہیں ہوتے پس ان کی ناقدری نہ کرو۔اب جلد سے جلد اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی بہبودی کے کاموں میں لگ دشمن آپ لوگوں کی کوششوں کو دیکھ کرگھبرا رہا ہے وہ محسوس کر رہا ہے کہ اب آپ نے اس کے مخفی حملہ سے بچنے کا صحیح ذریعہ معلوم کر لیا ہے پس وہ تلملا رہا ہے اور اپنے شکار کو ہاتھوں سے جاتا دیکھ کرسٹ پٹا رہا ہے ایک تھوڑی سی ہمت ، ایک تھوڑی سی کوشش ، ایک تھوڑی سی قربانی کی ضرورت ہے کہ صدیوں کی پہنی ہوئی زنجیریں کٹ جائیں گی اور اسلام کا سپاہی اپنے مولیٰ کی خدمت کے لئے پھر آزاد ہو جائے گا اور ہندوؤں کی غلامی کے بندٹوٹ جائیں گے“ الفضل ۲۰۔جولائی ۱۹۲۷ء صفحہ ۴ ) آنحضرت صلی الشمای الہ سلم کے لئے محبت و غیرت اور غصہ کی حالت میں بھی اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے متوازن طریق اختیار کرنے کی مؤثر تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔اسلام جہاں یہ کہتا ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے لئے غیرت دکھاؤ، اسلام جہاں یہ حکم دیتا ہے کہ جس کے دل میں خدا اور رسول کی محبت کسی اور چیز سے کم ہے اس میں ایمان ہی نہیں وہ خدا کے غضب کے نیچے ہے۔۔۔وہاں اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ اعلیٰ اخلاق کو کسی حالت میں بھی نہ چھوڑ وخواہ غصہ میں ہو یا