سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 44 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 44

44 آرام میں۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان خطرناک دنوں میں اپنے جوشوں کو قابو میں رکھیں اور بجائے کسی اور طرح نکالنے کی کوشش کرنے کے اس طرح نکالیں جس سے اسلام کو فائدہ پہنچے۔دیکھو راجباہوں کے ذریعہ بھی پانی کھیتوں میں جاتا ہے اور نہر کا بند ٹوٹ جانے سے بھی پانی کھیتوں میں پہنچتا ہے۔مگر بند تو ڑ کر آنے والا پانی کھیتی کو تباہ اور بربادکر دیتا ہے اور راجباہ کا پانی کھیتی کو سیراب کرتا ہے“ (الفضل ۵ - جولائی ۱۹۲۷ ء صفحہ ۶) بدنام زمانہ مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کرنے والی کتاب ”رنگیلا رسول“ کے مصنف مقدمہ چلا اور عدالت نے برائے نام سزا دیکر اس مقدمہ کو نمٹا دیا۔مسلمانوں کو بجا طور پر اس فیصلہ سے تکلیف ہوئی مگر ظلم و زیادتی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتے ہوئے عدالت عالیہ کے ایک حج کنور دلیپ سنگھ نے مجرم کی سزا کوختم کرتے ہوئے زخمی اور رنجور دلوں پر نمک پاشی کرتے ہوئے کہا کہ میرے نزدیک ایسے جرم کی تعزیرات ہند میں کوئی سزا نہیں ہے۔Muslim Out Look نامی اخبار نے ایک زور دار اداریہ میں اس فیصلہ کو غلط اور نا واجب قرار دیا۔اخبار مذکور کے ایڈیٹر سید دلاور شاہ بخاری جو احمدی تھے اور اس کے پرنٹر و پبلشر مولوی نور الحق صاحب پر توہین عدالت کا مقدمہ قائم کیا گیا۔سید دلاور شاہ صاحب کو بعض مشورہ دینے والوں نے یہ مشورہ دیا کہ ایسے مواقع پر سرسری معذرت سے معاملہ رفع دفع ہو جایا کرتا ہے آپ بھی سرسری سی معذرت کر دیں۔شاہ صاحب موصوف حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری تفصیل پیش کر کے مشورہ اور راہنمائی طلب کی تو آپ نے اس مشورہ کو درخور اعتناء نہ سمجھتے ہوئے فرمایا :- ”ہمارا فرض ہونا چاہئے کہ صوبہ کی عدالت کا مناسب احترام کریں لیکن ب کہ ایک مضمون آپ نے دیانتداری سے لکھا ہے اور اس میں صرف ان خیالات کی ترجمانی کی ہے جو اس وقت ہر اک مسلمان کے دل میں اٹھ رہے ہیں تو اب آپ کا فرض سوائے اس کے کہ اس سچائی پر مضبوطی سے قائم رہیں اور کیا ہو سکتا ہے۔یہ رسول کریم صلی علیہ آلہ سلم کی محبت کا سوال ہے اور ہم اس مقدس وجود کی عزت کے معاملہ میں کسی کے معارض بیان پر بغیر آواز اٹھائے کے نہیں رہ سکتے ہیں۔( میں) قانون تو جانتا نہیں اس کے متعلق تو آپ قانون دان لوگوں سے مشورہ لیں مگر میری طرف سے آپ کو یہ مشورہ ہے کہ آپ اپنے جواب میں یہ