سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 42
42 ہمارا اختلاف ہماری تباہی کا موجب نہ ہو یہ اتحاد الیسا ہو کہ ہم اس میں سے کسی کو باہر نہ رہنے دیں۔خلافتی یا خوشامدی لیگ کا ماننے والا یا کانگرسی عدم تعاونی یا ملازم سر کار کسی کو بھی ہم اپنے سے دور نہ کریں (الفضل یکم جولائی ۱۹۲۷ء صفحہ ۷ ) دو اس امر کی مزید تاکید کرتے ہوئے آپ نے نہایت مؤثر پیرایہ میں فرمایا : - پس اپنے اخلاق میں ایسی تبدیلی پیدا کرو کہ دنیا کے محبوب بن جاؤ۔اپنے آپ کو اس طرح فنا کر دو کہ دنیا تمھارے ذریعہ زندہ ہو جائے۔اگر تم اپنے لئے اس طرح موت قبول کر لو کہ دنیا زندہ ہو جائے تو دشمنوں کی نظروں میں بھی محبوب ہو جاؤ گے اور اپنوں اور خدا تعالیٰ کی نظر میں تو بہت ہی محبوب بن جاؤ گے۔لیکن جب تک اپنے اندر خاص اصلاح اور تبدیلی نہ پیدا کرو اور ایسی قربانی نہ اختیار کرو جس سے لوگوں کو زندگی حاصل ہو اس وقت تک نہ اپنوں میں معزز سمجھے جاؤ گے نہ بیگانوں میں اگر تم میں جوش پیدا ہوتا ہے تو اس سے اپنے معاملات ، عادات ، اخلاق اور نفوس کی اصلاح کا کام لو۔اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اس کے دین کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کر واس کے شعائر سے ایسا عشق دکھاؤ کہ اس عشق کی آگ ان سب اشیاء کو جلا کر راکھ کر دے جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے میں حائل ہوں۔۔۔۔۔۔الفضل ۲۷ مئی ۱۹۲۷ ء صفحه ۸) احتجاج اور غصہ کی حالت میں بالعموم تو ازن و اعتدال کا دامن ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔آپ نرمی کا طریق اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔66 کیا سخت بیانی سے دنیا میں کبھی بھی نفع ہوا ہے۔الفاظ کی سختی سے مقصد کی بلندی کبھی ثابت نہیں ہوتی بلکہ الفاظ کی سختی سے ہمدردوں کی ہمدردی میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ہمیں اسلام نرمی کا حکم دیتا ہے اور ہمیں اپنے جوشوں کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہئے اور ہر ایک بات کو دلیل سے ثابت کرنا چاہئے۔“ الفضل ۲۔اگست ۱۹۲۷ء صفحه ۴۳) پُر امن طریق پر بہادری اور جرات سے کام لینے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔یہ مدنظر رہے کہ فسا داور دنگا اسلام کو پسند نہیں امن کے ساتھ لیکن