سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 519 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 519

461 اور سیدہ سارہ بیگم صاحبہ کی وساطت سے جو خاکسار سے ایف۔اے کی تیاری کیا کرتی تھیں۔دریافت فرمایا کہ اگر حضور کسی جگہ میرا رشتہ کروا دیں تو مجھے کوئی اعتراض تو نہ ہوگا ؟ میرے خاموش رہنے پر سیدہ موصوفہ نے فرمایا کہ یہ تو میں حضور سے پہلے ہی کہہ چکی ہوں کہ میں آپ کا پیغام تو دے دوں گی لیکن ہمارے ماسٹر صاحب یہ سوال سنکر خاموش رہیں گے۔پھر جب حضور نے از راہ شفقت خود ہی ایک رشتہ تجویز کر کے شادی کا انتظام کر دیا۔تو شادی کے موقع پر میری بیوی کے لئے نہایت خوبصورت زیور اور ساڑھی بھجوائی اور خاکسار کے لئے قالین کا مصلا بھجوایا۔اور یہ چیزیں مکرم بیٹی خاں صاحب مرحوم پرسنل اسسٹنٹ کے ہاتھ بھجوا کر اپنے دستخطوں سے خط بھی لکھ کر بھجوایا۔جس کا مضمون یہ تھا۔عزیزم السَّلَامُ عَلَيْكُمُ غالبا کل آپ کی شادی ہے۔اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔اور جانبین کے لئے بابرکت بنائے۔آپ کی دونوں شاگردوں سارہ بیگم سلمہا اللہ اور ناصرہ بیگم سلمہا کی طرف سے آپ کی بیوی کے لئے ایک کپڑا اور ایک زیور ارسال ہے۔اور آپ کے لئے ایک مصلی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَحَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلوةِ الْوُسُطى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد اور ایسے تحائف کا سلسلہ حضور کی زندگی تک برابر چلتا رہا۔۱۹۵۴ء ۱۹۵۵ء میں سیدہ ام متین کے یاد فرمانے پر میں موسمی تعطیلات میں ایک ماہ کے لئے سندھ گیا۔حضور ناصر آباد میں مقیم تھے۔مجھے حضور نے عزت و شرف بخشا۔گھر کے افراد بالکل مختصر تھے۔حضور پرنور، سیدہ ام متین۔سیدہ امتہ المتین اور سیدہ مہر آپا۔۔۔خاکسار کھانے کے لحاظ سے گھر کے ان چارافراد میں پانچواں فرد شمار ہوتا تھا۔یہ خصوصی اعزاز اور یہ نا چیز گناہگار !!! واپسی پر حضور نے اپنے