سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 520
462 ان چار ٹکٹوں کے ساتھ خاکسار کے لئے ٹکٹ خریدنے پر بھی پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو خاص ہدایت کی۔پھر ابھی سندھ سے قافلہ کو آئے چند ہی دن گزرے تھے کہ سیدہ ام متین صاحبہ کی وساطت سے سوٹ کا ایک نہایت عمدہ کپڑا بھجوایا۔یہی نہیں بلکہ جب حضور بیماری کے ایام میں ولایت تشریف لے گئے تو واپسی پر جہاں اپنے بچے اور بچیوں کے لئے تحائف لائے خاکسار کے لئے ایک گھڑی لائے اور جب ایک صاحبزادہ نے وہ گھڑی اپنی گھڑی کے بدلہ میں لینا چاہی تو فرمایا ”نہیں“ یہ تو ماسٹر صاحب کے لئے ہے۔حضور کس قدر ذاتی اور گہری دلچسپی اپنے گھر والوں اور بچوں کے استاد سے لیتے تھے۔اس کا اندازہ ان حقائق سے بھی ہو سکتا ہے۔کہ حضور کو یہاں تک معلوم تھا کہ مجھے کیا چیز خاص طور پر پسند ہے۔ایک اور واقعہ مجھے کبھی نہیں بھول سکتا میرے سندھ کے ان ایام میں حضور نے صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب کو ایک رجسٹر ڈ خط بھجوایا۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری نے ڈاک کا خرچ اپنے خرچ میں ڈال لیا۔جب حضور کی خدمت میں خرچ پیش ہوا تو اس میں یہ خرچ درج نہ تھا۔حضور نے مکرم منشی فتح دین صاحب سے پوچھا اس رجسٹری کا خرچ یہاں درج نہیں یہ کیا ؟ دفتر نے عرض کیا کہ دفتری ڈاک میں درج کر دیا ہے۔حضور نے فرمایا یہ خط تو میرا ذاتی تھا اور میں نے اپنے بیٹے کو لکھا تھا اسے میرے ذاتی خرچ میں ڈالا جائے اس سے اندازہ ہوسکتا ہے۔کہ حضور تقوی کی کس قدر باریک راہوں پر چلتے تھے۔مکرم سید محمد بشیر صاحب پھگلہ کی درخواست پر حضور ان کے گاؤں تشریف لے گئے اس لطف و کرم کی حسین یاد تازہ کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں کہ :- حضور خلیفہ المسیح الثانی کی اپنے خدام اور جماعت کے ساتھ بے پناہ محبت تھی۔اور نام تک حضور کو یاد ہوتے تھے۔11 ستمبر ۱۹۵۶ء میں حضور ایبٹ آباد آئے ایبٹ آباد سے ہنزہ مکرم سید پیر محمد زمان صاحب ایڈووکیٹ مرحوم کے مکان پر حضور ۱۸ ستمبر کو تشریف لائے اور اہل خانہ۔ساری جماعت بھی چائے میں شامل ہوئی۔وہاں بھی حضور نے فرمایا کہ پرسوں ۲۰ کو میرا بالا کوٹ جانے کا ارادہ