سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 518 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 518

460 برسبیل تذکرہ حضور سے میری خواہش کا ذکر ہوا تو حضور نے اپنے حرم سے فرمایا کہ یہ کیا بات آپ کیوں بسم اللہ کروائیں میں کیوں نہ کرواؤں۔وہ میرے بچوں کو آکر روز پڑھائیں اور میں ان کی بچی کو بسم اللہ بھی نہ کراؤں۔حضور نے بسم اللہ کروائی اور بڑی محبت اور شفقت سے ہمیں نوازا۔حضور جب کبھی خاکسار کا ذکر کرتے تو ”ہمارے ماسٹر صاحب“ کر کے یاد فرماتے۔”ہمارے“ کے لفظ میں جس قدر اپنائیت ہے اس پر میں جس قدر بھی فخر کروں کم ہے۔سیدہ ام متین بی۔اے کا امتحان دینے کے لئے لاہور میں مقیم تھیں۔خاکسار بھی انگریزی اور ہسٹری کی تیاری کروانے کے سلسلہ میں ان دنوں وہیں مقیم تھا۔ان دنوں حضرت مولوی محمد دین صاحب ہیڈ ماسٹر شپ سے ریٹائر ہو رہے تھے۔ان کے اعزاز میں سکول اور اولڈ بوائز کی طرف سے قادیان میں الوداعی پارٹی کا انتظام ہو رہا تھا۔اتفاق سے اس روز بی۔اے کا کوئی پرچہ بھی نہیں تھا۔سیدہ اُئِم متین نے شام کو ٹیلیفون پر میرے لئے اس میں شمولیت کے لئے اجازت مانگی۔اجازت ملنے پر میں وقت مقررہ پر ہال میں آ پہنچا جس میں پارٹی دی جارہی تھی۔حضور جب اس تقریب پر پہنچے تو ہال کی ڈیوڑھی پر منتظمین نے حضور کا استقبال کیا۔میں ان میں شامل نہ تھا بلکہ ہال کے اندر تھا۔حضور نے مجھے نہ پا کر محترم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے سے جو اولڈ بوائز کے صدر تھے پوچھا کہ ”ہمارے ماسٹر صاحب نہیں آئے“ انہوں نے بتلایا کہ پہنچ گئے ہیں۔پھر ہال میں تشریف لائے تو خاکسار نے مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔اس خصوصی دلچسپی اور توجہ سے یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آجاتی ہے کہ اگر خاکسار حضور کے گھر والوں کو پڑھاتا تھا تو حضور کے دل میں بھی ان کے استاد کی کیسی قدرو منزلت تھی۔حضور کی دلچسپی کا مجھ سے کئی مرتبہ سیدہ ام متین صاحبہ نے بھی ذکر کیا تھا کہ جب کبھی تعلیم و تعلم کا تذکرہ ہوتا ہے حضور نہایت محبت اور شفقت سے ”ہمارے ماسٹر صاحب“ کہہ کر آپ کا ذکر کرتے ہیں۔حضور کی قدردانی اور ذرہ نوازی کا یہ عالم تھا کہ حضور نے خود ہی میری شادی کے لئے رشتہ تجویز فرمایا۔