سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 34
34 وو رسول کریم صلی اللہ و آلہ سلم کی عظمت پر مضامین لکھیں اور ایک مضمون رسول کریم کی عظمت پر میں بھی لکھوں گا پھر دنیا خود بخود دیکھ لے گی کہ ان کے دس ہیں لکھے ہوئے مضامین میرے ایک مضمون کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتے ہیں اور رسول کریم صلی الشمایہ آلہ سلم کے فضائل اور آپ کے محاسن میں بیان کرتا ہوں یا وہ مولوی بیان کرتے ہیں“ ( الفضل ۲۷۔اگست ۱۹۳۷ء ) اس سے قبل آپ اس حساس موضوع پر مخالفوں کو مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے فرماتے ہیں :- ہم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم پر اور ہماری بیوی بچوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو اگر ہم رسول کریم صل العماد او مسلم پر کامل یقین نہ رکھتے ہوں۔آپ کو خاتم النبین نہ سمجھتے ہوں آپ کو افضل الرسل یقین نہ کرتے ہوں اور قرآن کریم کو تمام دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لئے آخری شریعت نہ سمجھتے ہوں۔اس کے مقابلہ میں وہ قسم کھا کر کہیں کہ ہم یقین اور وثوق سے کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم صلی المیہ اور مسلم پر ایمان نہیں رکھتے نہ آپ کو دل سے خاتم النبہین سمجھتے ہیں اور آپ کی فضیلت و بزرگی کے قائل نہیں بلکہ آپ کی توہین کرنے والے ہیں اے خدا اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو ہم پر اور ہماری بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔۔66 (الفضل ۳ ستمبر ۱۹۳۵ ء صفحه ۶) یہ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ دل سے نکلی ہوئی اس بچی آواز کے مقابل پر کسی کو یہ چیلنج قبول کرنے کی جرات نہ ہوئی البتہ حضرت فضل عمر نے یکطرفہ حلف اُٹھا کر اپنا مؤقف ضرور سچا ثابت کر دیا۔آنحضرت صلی اللہادی اورمسلم کے فضائل و محاسن کے بیان کے لئے بھی آپ نے ایک ایسا ہی چیلنج دیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا حضور صلی اللہ ور اورمسلم سے تعلق روایتی اور جذباتی ہی نہیں تھا بلکہ آپ معرفت و وجدان کی دولت سے مالا مال تھے۔آنحضرت صلی الشعار الہ یکم سے کمال محبت و عقیدت حضور کی ہر حرکت ، ہر بات ، ہر تقریر، ہر تحریر سے ظاہر ہوتی ہے تاہم اگر مذکورہ بالا مقابلہ ہو جاتا تو اس سلسلہ میں بہت روشن مثال دنیا کے سامنے آتی اور نعت و منقبت کا اچھوتا مضمون ظاہر ہوتا۔مخالفوں کی طرف سے بڑے اصرار اور تکرار سے یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے، کہ حضرت مسیح موعود کو مان کر ہم نے آنحضرت صلی العمائی اور علم کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔اس سلسلہ میں حقیقت بیان کرتے