سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 35 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 35

35 ہوئے آپ فرماتے ہیں۔غرض کسی کو موقع نہیں ملا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رسول کریم صلی الشمال اورمسلم کے بالمقابل کھڑا کر سکے اور یہی اصل ایمان ہوتا ہے۔ہم کتنا ہی رسولوں سے عشق رکھتے ہوں خدا کا مقام خدا کا ہی ہے۔پس جہاں خدا نے مجھے توفیق دی کہ میں اپنے عمل اور اپنی زبان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درجہ کو قائم کروں وہاں اس نے مجھے اس امر کی بھی توفیق عطا فرمائی کہ رات اور دن ، سوتے اور جاگتے ایک منٹ اور ایک ساعت کے لئے بھی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رسول کریم صلی اللہادی اور مسلم کے مقابل کا وجود خیال نہیں کیا بلکہ ہر حالت میں میں نے یہی سمجھا کہ میں آپ کو وہی جگہ دوں جو ایک استاد کے مقابلہ میں شاگر دکو اور ایک آقا کے مقابلہ میں غلام کو الفضل ۲۱۔جون ۱۹۴۴ء صفحہ ۷ ) حاصل ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں :- نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت صلی اللہ یہ آلہ سلم کی ہتک کرتے ہیں اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم، اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ صلی السما و ال وسلم کیلئے ہے ، وہ کیا جانے کہ محمد صلی اللہ و الہ وسلم کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے وہ میری جان ہے، میرا دل ہے، میری مراد ہے، میرا مطلوب ہے، اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے، اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم بیچ ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں ، وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں ، وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش (حقیقة النبوۃ صفحہ ۱۸۶۔انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۵۰۱) کروں“ آنحضرت صلی الشمایہ اور مسلم سے عشق و محبت تو آپ کے ہر فعل ، ہر حرکت ، ہر کام سے خود بخود عیاں ہوتا تھا۔اپنی اس کیفیت کے متعلق آپ فرماتے ہیں :-