سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 33
33 ہو۔تا کہ ہماری عید میں محمد رسول اللہ صلی الشہید اورمسلم بھی شامل ہوں۔اگر آج کی عید محمد رسول اللہ صلی اللہادی آل وسلم کی بھی عید ہے تو پھر سارے مسلمانوں کی عید ہے۔لیکن اگر آج کی عید میں محمد رسول اللہ صلی اللملی آلہ وسلم شامل نہیں تو پھر آج سارے مسلمانوں کے لئے عید نہیں بلکہ ان کے لئے ماتم کا دن ہے ( خطبات محمود جلد اصفحه ۳۴۹) عید کے ایک اور خطبہ میں اپنے ایسے ہی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں : - میں تو تم سے کچھ بھی نہیں چاہتا میں تو تم سے صرف وو محمد رسول اللہ صلی الہ اور اورمسلم کے لئے عید مانگتا ہوں۔تم میں سے کئی عید کے دن مجھے تحفہ دیتے ہیں مگر مجھے ان تحفوں سے کیا فائدہ اور مجھے ان تحفوں سے کیا غرض۔میری عیدی تو وہی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہادی آل وسلم کو ملتی ہے۔اسی عیدی میں میری عیدی شامل ہے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ دی او سلم کا دل خوش ہوتا ہے تو ہمارا دل بھی خوش ہوتا ہے اور اگر ان کا دل خوش نہیں ہوتا تو نہ ہمیں جمع ہونے میں کوئی خوشی " ہے اور نہ ہمیں جُدا ہونے میں کوئی رنج ہے (خطبات محمود جلد اصفحہ ۲۰۹) آپ میں تحمل اور برداشت کی قوت غیر معمولی تھی آپ پر نہایت گندے الزامات لگائے گئے مگر آپ نے کبھی ان کا جواب دینے کی ضرورت نہیں کبھی کیونکہ عرش کا خدا اپنی تائید و نصرت سے خود ہی ایسے معترضوں کو روسیاہ و نا کام کر دیتا تھا تا ہم جب کسی کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا کہ آپ اور جماعت آنحضرت صلی الشمایو آلہ وسلم کی شان اقدس میں کسی طرح تخفیف کرتی ہے تو آپ نے اسے برداشت نہیں کیا اور اس کا کئی رنگ میں جواب دیا۔ایسے ہی ایک موقع پر آپ نے فرمایا :- مذہبی اختلاف کو جانے دو تم کم از کم انسانیت اور شرافت کا پاس رکھو اور اسے اپنے ہاتھ سے نہ دو۔ہمارے تمہارے اختلافات بھی ہیں ، لڑائیاں بھی ہیں، جھگڑے بھی ہیں مگر ان لڑائیوں اور جھگڑوں میں جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ اور کسی کی طرف وہ عقائد منسوب کرنے سے کیا حاصل جن کو وہ مانتا ہی نہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ اگر وہ بچے دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دل میں رسول کریم صلی اللہ یہ و سلم کی ہم سے زیادہ عزت ہے تو میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنے علماء کو تیار کریں اور تراضی فریقین سے ایک تاریخ مقرر کر کے وہ بھی