سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 407 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 407

364 سیکھی؟ کہنے لگے ہاں ایک دفعہ کوشش کی تھی مگر اس خیال سے ارادہ ترک کر دیا کہ ٹکر نہ مار دوں ہاتھ سٹیرنگ پر تھے اور دماغ قرآن مجید کی کسی آیت کی تفسیر میں اُلجھا ہوا تھا موٹر کیسے چلاتا۔اکثر ایسا ہوتا کہ قرآن مجید پڑھتے پڑھتے کہنا اچھا بتاؤ اس آیت کا کیا مطلب ہے؟ میں نے جو سمجھ آئی کہہ دینا یا کہ دینا پتہ نہیں آپ بتائیں تو پھر کہنا کہ یہ نیا نکتہ سوجھا ہے اور اس آیت کے یہ نئے مطالب ذہن میں آئے ہیں۔حضور نے تفسیر کبیر کی سورۃ یونس سے سورۃ کہف تک والی تفسیر لکھی اور وہ پہلی جلد شائع ہوئی تو فرمانے لگے کہ اسے پڑھو میں تمہارا متحان لوں گا میں نے کہا اچھا لیکن یہ اتنی موٹی کتاب ہے اگلے سال امتحان لے لیں اتنا وقت تو یاد کرنے کے لئے چاہئے۔کہنے لگے نہیں صرف ایک ماہ۔اگر زیادہ مہلت دی تو تم کبھی بھی نہیں پڑھو گی یہ خیال ہو گا کہ چلو بڑا وقت پڑا ہے پڑھ لوں گی۔پڑھنے کا یہ مطلب نہیں کہ زبانی یاد کرو بلکہ شروع سے آخر تک بس پڑھ جاؤ۔خود ہی ذہن نشین ہو جائے گا۔جب میں نے بہت اصرار کیا تو کہنے لگے اچھا ڈھائی مہینے۔خیر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا ڈھائی ماہ میں میں نے اسے ختم کر لیا اور آپ نے زبانی دو تین سوال پوچھ کر میرا امتحان لیا اور اللہ تعالیٰ نے عزت بھی رکھ لی کہ جواب آ گئے۔عورتوں میں جب ہفتہ وار درس دیا کرتے تھے اس میں ایک یا دو دفعہ مجھے یاد ہے عورتوں کا امتحان بھی لیا تھا کثرت سے عورتوں نے امتحان دیا تھا اور پرچے دیکھ کر آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا تھا ایک دفعہ سورۃ مزمل کا اور ایک دفعہ سورۃ سبا کا۔سورۃ سبا کی اس آیت وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَةَ إِلَّا لِمَنْ أذِنَ لَهُ (سبا: ۲۴) پر کئی دن درس جاری رہا تھا شفاعت کا مسئلہ بہت تشریح سے بیان فرمایا تھا اور بعد میں اس حصہ کا امتحان لیا تھا جس میں صاحبزادی امتہ القیوم اول آئی تھیں۔درس کے سلسلہ میں ایک واقعہ یاد آیا قرآن مجید کے درس کے سلسلے میں ایک واقعہ درس کے ساتھ آپ نے کچھ عرصہ بخاری شریف کا درس بھی عورتوں میں دیا تھا۔گو وہ زیادہ لمبا عرصہ جاری نہ رہ سکا شاید ایک یا دو پاروں کا درس ہوا تھا ایک دن آپ نے درس دیتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ یہ آلہ سلم کا آخری حج کا واقعہ بیان فرمایا اور جب یہ الفاظ بیان فرمائے کہ آنحضرت صلی اللہ و الہ یکم نے فرمایا کہ جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے جس طرح یہ علاقہ مقدس ہے جس طرح یہ دن مقدس ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اس کے مال اور عزت کو مقدس قرار دیا ہے اور کسی کی جان اور کسی کے مال پر حملہ کرنا ایسا ہی ناجائز ہے جیسے کہ